شخصیات

ابو جندل بن سہیل رضی اللہ عنہ

ابو جندل بن سہیل رضی اللہ عنہ (اصل نام: عاص بن سہیل) کا شمار اسلام کے ان ابتدائی اور مظلوم مسلمانوں میں ہوتا ہے جن کی زندگی نے معاہدہ حدیبیہ کے اہم ترین لمحات کو زندہ کیا۔ آپ نے اسلام کی خاطر بے پناہ صعوبتیں برداشت کیں اور اپنی ثابت قدمی سے ایمان کی لازوال مثال قائم کی۔

ابتدائی زندگی اور قریش کا جبر

ابو جندل کا تعلق قریش کے بااثر خاندان سے تھا۔ آپ کے والد سہیل بن عمرو تھے، جو مکہ کے سرکردہ اور بااثر سرداروں میں سے تھے اور اسلام کے سخت مخالف تھے۔ جب ابو جندل نے اسلام قبول کیا تو ان کے والد نے انہیں زنجیروں میں جکڑ دیا اور سخت عذاب میں مبتلا کیا۔ انہیں اپنے اسلام کو چھپانے اور قریش کے جبر میں زندگی گزارنے پر مجبور کیا گیا۔

معاہدہ حدیبیہ اور ابو جندل کی مظلومیت

6 ہجری میں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے ساتھ عمرہ کی نیت سے مکہ کا رخ کیا اور مقام حدیبیہ پر قیام فرمایا، تو قریش نے سہیل بن عمرو کو صلح کا معاہدہ کرنے کے لیے اپنا نمائندہ بنا کر بھیجا۔ یہ معاہدہ تاریخ اسلام میں معاہدہ حدیبیہ کے نام سے مشہور ہے۔

معاہدے کی ایک اہم اور بظاہر مسلمانوں کے لیے سخت شق یہ تھی کہ “قریش کا جو بھی فرد مسلمان ہو کر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے پاس آئے گا، اسے واپس کر دیا جائے گا، لیکن جو مسلمان محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے پاس سے قریش کے پاس جائے گا، اسے واپس نہیں کیا جائے گا۔”

جب یہ معاہدہ لکھا جا رہا تھا اور سہیل بن عمرو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھے ہوئے تھے، اسی دوران اچانک ابو جندل زنجیروں میں جکڑے ہوئے، لاغر اور مظلوم حالت میں مسلمانوں کے لشکر کے قریب پہنچے۔ ان کے والد نے انہیں اسلام قبول کرنے کی پاداش میں سخت قید و بند میں رکھا ہوا تھا اور وہ کسی طرح بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوئے تھے۔ وہ مسلمانوں سے مدد کے طالب تھے۔

ابو جندل نے بلند آواز سے مسلمانوں کو پکارا اور اپنی حالت زار بیان کی۔ اس منظر نے تمام مسلمانوں کو لرزا دیا، خاص کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ جو شدید جذباتی ہو گئے تھے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس معاہدے کی اس شق پر نظر ثانی کی درخواست کی۔

تاہم، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ معاہدہ کر چکے تھے، آپ نے سہیل بن عمرو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: “ہم نے ابھی معاہدہ کیا ہے، اور یہ بات ابھی طے ہوئی ہے کہ کوئی بھی قریشی شخص جو ہمارے پاس آئے گا اسے واپس کر دیا جائے گا۔” سہیل بن عمرو نے اس بات پر اصرار کیا کہ ابو جندل کو واپس کیا جائے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاہدے کی پاسداری کرتے ہوئے ابو جندل کو واپس قریش کے حوالے کر دیا۔

یہ منظر مسلمانوں کے لیے انتہائی تکلیف دہ تھا، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ابو جندل اور دیگر مظلوم مسلمانوں کے لیے کوئی راستہ نکالے گا۔ اس موقع پر ابو جندل نے خود بھی صبر و استقامت کا مظاہرہ کیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو تسلیم کیا۔

ابو بصیر کا ساتھ اور آزادی کا راستہ

ابو جندل کو واپس قریش کے حوالے کر دیا گیا، لیکن اللہ تعالیٰ نے جلد ہی ان کے لیے ایک راستہ نکالا۔ ابو بَصیر رضی اللہ عنہ کا مشہور واقعہ پیش آیا، جب وہ بھی مکہ سے بھاگ کر مدینہ پہنچے اور معاہدے کی بنا پر انہیں بھی واپس کیا جا رہا تھا۔ ابو بَصیر نے راستے میں قریش کے نمائندوں میں سے ایک کو قتل کر کے اپنی آزادی حاصل کی اور مدینہ سے باہر عیص نامی مقام پر جا بسے۔

جب ابو جندل کو ابو بصیر کے اس اقدام کی خبر ملی تو وہ بھی کسی طرح قریش کی قید سے فرار ہو کر ابو بصیر کے پاس پہنچ گئے اور ان کے ساتھ شامل ہو گئے۔ اس طرح وہ دونوں اور دیگر مظلوم مسلمان ایک گروہ کی شکل اختیار کر گئے جو قریش کے تجارتی قافلوں پر حملے کرتا تھا۔ اس صورتحال نے قریش کو پریشان کر دیا اور وہ مجبور ہو کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور درخواست کی کہ معاہدے کی اس شق کو منسوخ کر دیا جائے کہ جو بھی مسلمان ہو کر آئے گا اسے واپس کیا جائے گا۔ اس طرح ابو جندل اور دیگر مظلوم مسلمانوں کو مدینہ آنے کی اجازت مل گئی اور انہیں قریش کے ظلم سے نجات ملی۔

بعد کی زندگی اور وفات

ابو جندل رضی اللہ عنہ نے مدینہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں زندگی گزاری اور دین کی خدمت میں مشغول رہے۔ آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اسلامی فتوحات میں حصہ لیا۔ آپ نے جنگ یمامہ (12 ہجری) میں شرکت کی، جو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں مسیلمہ کذاب کے خلاف لڑی گئی تھی، اور اس جنگ میں آپ نے شہادت پائی۔

ابو جندل کی زندگی، صبر، استقامت اور اللہ تعالیٰ پر کامل توکل کی ایک روشن مثال ہے۔ ان کا نام معاہدہ حدیبیہ کے ساتھ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، جس میں انہوں نے اپنی ذات پر ہونے والے ظلم کو برداشت کیا تاکہ ایک عظیم تر مقصد، یعنی اسلام کے فروغ، کی تکمیل ہو سکے۔

Leave a Comment