شخصیات

عبد المنعم ابن الفَرَس (رحمتہ اللہ علیہ)

ابو محمد عبد المنعم بن محمد بن عبد الرحیم الخزرجی الغرناطی الاندلسی المالکی، جو عام طور پر ابن الفَرَس کے نام سے مشہور ہیں، اسلامی تاریخ کے ایک جلیل القدر فقیہ اور مفسر قرآن تھے۔ آپ کی پیدائش 524 ہجری (بمطابق 1130 عیسوی) میں اندلس کے شہر غرناطہ میں ہوئی۔

ابتدائی زندگی اور تعلیم:

ابن الفرس ایک ایسے علمی گھرانے میں پروان چڑھے جہاں علومِ شرعیہ کو خاص اہمیت دی جاتی تھی۔ آپ کے والد محمد بن عبد الرحیم بھی ایک عالم اور شیوخ سے ملاقات کے شوقین تھے۔ آپ کے دادا عبد الرحیم بن محمد الخزرجی ایک فقیہ، محدث اور قراءات کے ماہر تھے۔ ابن الفرس نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے والد اور دادا سے حاصل کی اور کم عمری میں ہی علم کے حصول کی طرف مائل ہو گئے۔

آپ نے صرف اپنے آبائی شہر غرناطہ کے علماء سے اکتفا نہیں کیا بلکہ علم کی پیاس بجھانے کے لیے اندلس کے مشرق و مغرب میں سفر کیے۔ 519 ہجری میں آپ نے قرطبہ (اسپین) کا سفر کیا، جہاں آپ نے اس وقت کے نامور علماء و محدثین جیسے ابن عتاب، ابن الوراق، اور ابوبکر ابن العربی (رحمہم اللہ) سے علم حاصل کیا اور ان سے فیض پایا۔

علمی مقام اور خدمات:

ابن الفرس اپنے زمانے کے فقہائے مالکیہ میں نمایاں مقام رکھتے تھے۔ آپ کو علوم کی گہرائیوں کا ادراک تھا اور آپ نے مختلف فنونِ علم میں مہارت حاصل کی۔ خاص طور پر فقہ میں آپ کا حافظہ اور مسائل میں بصیرت غیر معمولی تھی، اس کے ساتھ ساتھ آپ علم حدیث میں بھی حصہ لیتے ۔ آپ اپنے معاصرین میں “رائے” (فقہی استدلال) اور اس پر پختہ گرفت کی وجہ سے ممتاز تھے۔

آپ کی سب سے مشہور اور گراں قدر تصنیف “أحكام القرآن” ہے۔ یہ قرآن مجید کی ایک تفسیری کتاب ہے جس میں قرآنی آیات سے فقہی احکام کا استنباط کیا گیا ہے۔ یہ کتاب آپ نے مرسیہ میں 553 ہجری میں مکمل کی، اور یہ آپ کے وسیع علمی بصیرت اور فقہی گہرائی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کتاب نے بعد میں آنے والے فقہاء اور مفسرین کے لیے ایک اہم ماخذ کا کردار ادا کیا۔

“أحكام القرآن” کے علاوہ، آپ نے دیگر کتابیں بھی تصنیف کیں جن میں امام ماوردی کی کتاب “الأحكام السلطانية” کا اختصار اور ابو عبید القاسم بن سلام کی کتاب “النسب” کا اختصار بھی شامل ہیں۔ آپ نے “کتاب فی صناعۃ الجدل” (علمِ مناظرہ و استدلال پر ایک کتاب) بھی لکھی۔

قضاء کے مناصب:

علمی خدمات کے ساتھ ساتھ، ابن الفرس نے کئی شہروں میں قضاء (جج) کے مناصب بھی سنبھالے۔ آپ نے جزیرہ شقر، وادی آش، جیان اور آخر کار غرناطہ میں قضاء کے فرائض انجام دیے۔ غرناطہ میں آپ کو حسبہ (عوامی اخلاق اور نظم و ضبط کی نگرانی) اور شرطہ (پولیس) کا بھی نگران بنایا گیا۔

وفات:

شیخ عبد المنعم ابن الفرس نے 597 ہجری (بمطابق 1201 عیسوی) میں تقریباً 70 سے 71 سال کی عمر میں وفات پائی۔ آپ کی وفات غرناطہ سے باہر باب البیرہ کے مقام پر ہوئی اور آپ کے جنازے میں کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔

ابن الفرس (رحمتہ اللہ علیہ) کی علمی و فقہی خدمات نے اندلس میں اسلامی علوم کو ایک نئی زندگی دی اور آپ کی تصانیف آج بھی اسلامی علمی ورثے کا ایک اہم حصہ ہیں۔

Leave a Comment