ابو حذیفہ بن عتبہ رضی اللہ عنہ (اصل نام: مُہشِّم بن عتبہ بن ربیعہ، یہ نام بعد میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدل کر یہ نام دیا تھا) کا شمار ان سابقون الاولون (سبقت لے جانے والے ابتدائی) صحابہ کرام میں ہوتا ہے جنہوں نے اسلام قبول کرنے کے لیے اپنے خاندان، رشتوں اور سابقہ حیثیت کو قربان کر دیا۔ آپ کی زندگی میں ایک اہم پہلو یہ ہے کہ آپ کے والد عتبہ بن ربیعہ قریش کے سرداروں میں سے تھے اور اسلام کے سخت مخالف تھے، اور جنگ بدر میں مسلمانوں کے خلاف لڑتے ہوئے مارے گئے تھے۔ اس کے باوجود ابو حذیفہ کا ایمان اور اسلام سے وابستگی قابل رشک تھی۔
ابتدائی زندگی اور اسلام قبول کرنا
ابو حذیفہ کا تعلق قریش کے معزز قبیلے بنو عبدِ شمس سے تھا، جو مکہ کے اہم ترین خاندانوں میں سے ایک تھا۔ آپ نے اسلام کی دعوت کے ابتدائی مراحل میں ہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئے۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب اسلام قبول کرنا اپنی جان کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف تھا۔ آپ نے اپنے والد، جو قریش کے بڑے سردار تھے، کی مخالفت کے باوجود اسلام قبول کیا اور اس پر ثابت قدم رہے۔
آپ ان خوش نصیب صحابہ میں سے تھے جنہوں نے حبشہ کی پہلی ہجرت میں بھی شرکت کی۔ اس ہجرت کا مقصد مکہ میں قریش کے مظالم سے بچ کر دین کو آزادی کے ساتھ قائم کرنا تھا۔ حبشہ سے واپس آنے کے بعد آپ مدینہ کی طرف ہجرت کر گئے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور قریبی تعلق
ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے والہانہ محبت تھی۔ آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر مجلس میں حاضر ہوتے اور آپ کے اقوال و افعال کو اپنے دل میں بسا لیتے۔ آپ کا شمار ان اصحاب میں ہوتا تھا جو ہمیشہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب رہنے کی کوشش کرتے تھے۔
غزوات میں شرکت اور ثابت قدمی
ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ نے تمام بڑے غزوات میں حصہ لیا، جن میں جنگ بدر خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ یہ ایک عجیب اور المناک صورتحال تھی کہ آپ اس جنگ میں مسلمانوں کی صف میں کھڑے تھے اور آپ کے والد، چچا اور بھائی (ولید بن عتبہ) دوسری طرف کفار کی صف میں تھے۔ اس جنگ میں ابو حذیفہ نے اسلام کی خاطر اپنے خاندانی تعلقات کو پس پشت ڈال دیا اور حق کا ساتھ دیا۔ آپ نے اپنی تلوار سے دشمنوں کا مقابلہ کیا اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا۔ یہ ان کی ایمان کی پختگی اور دین کے لیے بے مثال قربانی کا ثبوت تھا۔
سالم مولیٰ ابی حذیفہ سے تعلق
ابو حذیفہ کی زندگی کا ایک اور اہم پہلو ان کا اپنے آزاد کردہ غلام سالم مولیٰ ابی حذیفہ سے تعلق تھا۔ ابو حذیفہ نے سالم کو اپنا بیٹا بنا لیا تھا (قبل از اسلام تبنی کا رواج تھا، جسے بعد میں قرآن نے ختم کر دیا)۔ سالم ایک عظیم قاری اور فقیہ تھے اور انہیں صحابہ کرام میں ایک بلند مقام حاصل تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: “قرآن چار آدمیوں سے سیکھو: عبداللہ بن مسعود، سالم مولیٰ ابی حذیفہ، اُبی بن کعب اور معاذ بن جبل۔” یہ ابو حذیفہ کے لیے ایک اعزاز تھا کہ ان کا منہ بولا بیٹا اتنا عظیم مقام رکھتا تھا۔
وفات اور شہادت
ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اپنی پوری زندگی جہاد اور دین کی خدمت میں گزاری۔ آپ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں جنگ یمامہ (12 ہجری) میں شہادت پائی۔ یہ جنگ مسیلمہ کذاب کے خلاف لڑی گئی تھی اور اس میں بہت سے حفاظِ قرآن اور جلیل القدر صحابہ نے شہادت حاصل کی۔ ابو حذیفہ اور ان کے منہ بولے بیٹے سالم دونوں نے اس جنگ میں شہادت پائی، جس سے ان کی بے مثال قربانی کا ثبوت ملتا ہے۔
ابو حذیفہ بن عتبہ رضی اللہ عنہ کی زندگی ایمان کی پختگی، مشکل حالات میں صبر، اور دین کے لیے ہر رشتے اور مفاد کو قربان کرنے کی ایک عظیم مثال ہے۔ ان کی قربانیاں آج بھی مسلمانوں کے لیے باعث تقلید ہیں۔
