شخصیات

ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ

ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ (اصل نام: عامر بن عبداللہ بن جراح) کا شمار عشرہ مبشرہ (وہ دس صحابہ کرام جنہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا میں ہی جنت کی بشارت دی) میں ہوتا ہے۔ آپ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے “امین الامت” یعنی اس امت کے سب سے زیادہ امانت دار کا لقب عطا فرمایا، جو آپ کی صداقت، دیانت، اور تقویٰ کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ آپ کی زندگی اسلام کے لیے بے مثال قربانیوں، عسکری قیادت اور زہد و قناعت کا ایک روشن باب ہے۔

ابتدائی زندگی اور قبول اسلام

ابو عبیدہ بن جراح کا تعلق قریش کے قبیلے بنو فہر سے تھا اور آپ مکہ مکرمہ میں سن 583 عیسوی (عام الفیل کے تقریباً 11 سال بعد) پیدا ہوئے۔ ابتدائی زمانے میں ہی، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی دعوت پر آپ نے اسلام قبول کر لیا، جب اسلام کمزور تھا اور مسلمانوں کو قریش کے شدید مظالم کا سامنا تھا۔ دیگر ابتدائی مسلمانوں کی طرح، ابو عبیدہ کو بھی ایذا رسانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ آپ نے مکہ کے مظالم سے بچنے کے لیے دو مرتبہ حبشہ کی طرف ہجرت کی اور پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سے چند روز قبل مدینہ تشریف لائے۔

امین الامت کا لقب

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو عبیدہ کو “امین الامت” کا لقب عطا فرمایا۔ اس لقب کا پس منظر ایک روایت میں یوں بیان ہوا ہے کہ نجران کے عیسائی وفد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ ان کے مالی معاملات اور دیگر مسائل کے حل کے لیے ایک امانت دار شخص کو ان کے ساتھ بھیجا جائے۔ اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “میں تمہارے ساتھ ایک ایسے امانت دار شخص کو بھیجوں گا جو واقعی امین ہے۔” اس وقت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے گردنیں اٹھا کر دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسے منتخب فرماتے ہیں، تو آپ نے ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ فرمایا۔ اس طرح آپ کو یہ عظیم لقب ملا۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے بھی ابو عبیدہ کی امانت داری کا اقرار کیا اور فرمایا کہ اگر ابو عبیدہ زندہ ہوتے تو وہ انہیں اپنا جانشین مقرر کرتے، اور اگر اللہ ان سے پوچھتے کہ تم نے ایسا کیوں کیا تو وہ جواب دیتے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ابو عبیدہ اس امت کے امین ہیں۔

غزوات میں شرکت اور شجاعت

ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمام غزوات میں شرکت کی اور اپنی شجاعت کے جوہر دکھائے۔

جنگ بدر: یہ وہ جنگ تھی جہاں ایمان کی بنیاد پر رشتوں کی قربانی دی گئی۔ ابو عبیدہ بن جراح نے اسی جنگ میں اپنے مشرک والد کو، جو مسلمانوں کے خلاف لڑ رہے تھے، اپنے ہاتھوں سے قتل کیا۔ یہ عمل ان کے ایمان کی پختگی اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بے مثال محبت کی علامت تھا۔

جنگ احد: اس غزوے میں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو زخمی کر دیا گیا اور آپ کے چہرے مبارک میں خود (لوہے کی ٹوپی) کی دو کڑیاں پیوست ہو گئیں، تو ابو عبیدہ نے کسی اور کو آگے آنے سے روکا اور اپنے دانتوں سے ان کڑیوں کو نکالنے کی کوشش کی۔ اس عمل میں آپ کے دو سامنے کے دانت ٹوٹ گئے، لیکن آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف سے بچانے کی پوری کوشش کی۔

دیگر غزوات اور سرایا: آپ نے کئی سرایا (چھوٹے فوجی دستے) کی قیادت بھی فرمائی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال تک آپ ہر مہم میں پیش پیش رہے۔

شام کی فتوحات اور گورنری

خلفائے راشدین کے دور میں بھی ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے اسلام کے لیے عظیم خدمات انجام دیں۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آپ کو شام کی فتوحات کے لیے امیر مقرر کیا۔ آپ نے کئی گنا بڑی رومی افواج کا مقابلہ کیا اور پے در پے فتوحات حاصل کیں۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں، آپ کو شام میں اسلامی افواج کا کمانڈر انچیف مقرر کیا گیا (بسا اوقات حضرت خالد بن ولید جیسے عظیم کمانڈر بھی ان کے ماتحت کام کرتے تھے)۔ آپ نے شام کی اہم فتوحات میں کلیدی کردار ادا کیا، جن میں جنگ یرموک (جس نے رومیوں کو شام چھوڑنے پر مجبور کیا) اور بیت المقدس کی فتح شامل ہیں۔ بیت المقدس کے بعد آپ شام کے پہلے گورنر بھی بنے۔ آپ نے بیت المقدس میں پہلی نماز وہیں ادا کی جہاں آج مسجد اقصیٰ موجود ہے۔

آپ کی قیادت سادہ، مؤثر اور اخلاص سے بھرپور تھی۔ آپ ایک بہترین جرنیل ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھے منتظم اور مبلغ بھی تھے۔

زہد اور سادگی

فتح شام کے بعد، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے آپ کا دورہ کیا اور آپ کی سادگی اور زہد سے متاثر ہوئے۔ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کے گھر کا دورہ کیا تو دیکھا کہ آپ کے پاس صرف ایک تلوار، ایک ڈھال اور ایک معمولی کجاوہ تھا جسے آپ بستر اور تکیے کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: “شام میں آکر سب ہی بدل گئے لیکن ابوعبیدہ! تم ہو کہ اپنی اسی وضع پر قائم ہو۔” یہ آپ کے دنیا سے بے رغبتی اور آخرت کی فکر کا مظہر تھا۔

وفات

ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کی وفات 18 ہجری میں طاعونِ عمواس کی وباء کے دوران ہوئی۔ یہ وباء شام میں پھیلی تھی اور اس میں بہت سے مسلمان شہید ہوئے۔ وفات کے وقت آپ کی عمر تقریباً 58 سال تھی۔ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اور آپ کو مقام بیسان (اردن) میں دفن کیا گیا۔

ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کی زندگی امانت داری، شجاعت، زہد، اور اللہ پر کامل توکل کی ایک روشن مثال ہے۔ ان کی خدمات اسلام کی تاریخ میں ہمیشہ سنہرے حروف میں لکھی جائیں گی۔

Leave a Comment