شخصیات

بخت نصر

بخت نصر، جسے تاریخی طور پر نبوکدنضر دوم (Nebuchadnezzar II) کے نام سے جانا جاتا ہے، قدیم بابل کا ایک عظیم اور طاقتور بادشاہ تھا جس نے 605 قبل مسیح سے 562 قبل مسیح تک حکومت کی۔ وہ کلدانی سلطنت کا سب سے نمایاں حکمران تھا اور اس کا نام تاریخ میں اپنی فتوحات، عظیم الشان تعمیرات، اور خاص طور پر یروشلم (بیت المقدس) کی تباہی اور یہودیوں کی اسیری (بابل کی قید) کے حوالے سے مشہور ہے۔

پس منظر اور ابتدائی زندگی

بخت نصر کا اصل نام “نبو-کدورری-اوسور” (Nabu-Kudurri-Ussur) تھا جس کا مطلب ہے “نبو (بابلی دیوتا) میرے سب سے بڑے بیٹے کی حفاظت کرے”۔ وہ اپنے باپ نبوپلاسسر (Nabopolassar) کے بعد تخت نشین ہوا، جس نے اشوری سلطنت کے زوال کے بعد بابل میں ایک نئی کلدانی سلطنت کی بنیاد رکھی تھی۔ بخت نصر نے اپنے باپ کے زمانے میں ہی فوجی مہمات میں حصہ لینا شروع کر دیا تھا اور اپنی جنگی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اس نے زمانہ شہزادگی میں ہی مصر کو فتح کیا تھا۔

بخت نصر کی فتوحات اور سلطنت کی توسیع

بخت نصر کا دور حکومت بابل کے لیے ایک سنہری دور تھا جہاں اس نے اپنی سلطنت کو وسیع کیا اور اسے ایک بڑی طاقت کے طور پر ابھارا:

ایشوری سلطنت کا خاتمہ: اس نے مادیوں کے ساتھ مل کر اشوری سلطنت کو مکمل طور پر ختم کر دیا، جو اس وقت کی ایک غالب طاقت تھی۔

علاقائی تسلط: اس نے شام (Syria) اور فلسطین کے علاقوں پر قبضہ کر لیا، جو اس سے پہلے مصر اور ایشوری سلطنت کے درمیان تنازع کا مرکز تھے۔

یروشلم کی تباہی: اس کی سب سے نمایاں فتح یروشلم (بیت المقدس) کی تباہی تھی۔ یہودیوں کی مسلسل بغاوتوں کی وجہ سے بخت نصر نے یروشلم پر کئی حملے کیے:

پہلا حملہ 597 قبل مسیح میں کیا، جس کے نتیجے میں یہودیوں کے بادشاہ اور بہت سے اہم افراد کو بابل قیدی بنا کر لے جایا گیا۔

جب یہودیوں نے دوبارہ بغاوت کی، تو بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر دوسرا اور حتمی حملہ کیا۔ اس حملے میں اس نے شہر کو مکمل طور پر تباہ کر دیا، ہیکل سلیمانی (Solomon’s Temple) کو مسمار کر دیا، اور یہودیوں کی ایک بڑی تعداد کو قیدی بنا کر بابل لے گیا، جسے “بابل کی اسیری” کہا جاتا ہے۔ یہ اسیری تقریباً 50 سال تک جاری رہی۔

تعمیرات اور ثقافت

بخت نصر نہ صرف ایک عظیم جنگجو تھا بلکہ وہ ایک عظیم معمار بھی تھا۔ اس کے دور میں بابل علم و ادب اور تہذیب و تمدن کا ایک بڑا مرکز بن گیا تھا۔ اس نے بابل کی قلعہ بندی پر بہت زیادہ دولت خرچ کی اور کئی عظیم الشان تعمیرات کروائیں، جن میں سب سے مشہور یہ ہیں:

بابل کے معلق باغات (Hanging Gardens of Babylon): یہ دنیا کے سات قدیم عجائبات میں سے ایک سمجھے جاتے ہیں۔ روایت ہے کہ بخت نصر نے یہ باغات اپنی ملکہ امیتیس (جو مادی تھی) کے لیے بنوائے تھے، کیونکہ وہ اپنے آبائی وطن کی سرسبز و شاداب وادیوں کو یاد کرتی تھی۔

عظیم الشان محل: اس نے ایک نیا اور شاندار محل بھی تعمیر کروایا تھا جس کی خوبصورتی اور وسعت اس دور میں بے مثال تھی۔

اصفہان: بعض روایات کے مطابق، اس نے اصفہان شہر کی بنیاد رکھی۔

بخت نصر کا انجام اور اس کی اہمیت

بخت نصر 562 قبل مسیح میں وفات پا گیا۔ اس کے بعد سلوقی سلطنت بتدریج کمزور ہوتی چلی گئی اور بالآخر ایران کے بادشاہ سائرس اعظم نے بابل کو فتح کر لیا اور یہودیوں کو ان کے وطن واپس جانے کی اجازت دے دی۔

بخت نصر کا کردار نہ صرف قدیم تاریخ میں بلکہ مذہبی نصوص، خاص طور پر بائبل اور اسلامی تفاسیر میں بھی گہرا اثر رکھتا ہے۔ قرآن مجید میں اگرچہ بخت نصر کا نام صراحتاً نہیں لیا گیا، لیکن سورہ بنی اسرائیل میں بنی اسرائیل پر دو بار اللہ کے عذاب کا ذکر ہے، اور کئی مفسرین نے پہلی بار کے عبیاد (بندوں) سے بخت نصر اور اس کے لشکر کو مراد لیا ہے۔ یہ واقعات بنی اسرائیل کی سرکشی اور اس کے نتیجے میں ان پر آنے والے عذاب کی نشانی کے طور پر بیان کیے جاتے ہیں۔

بخت نصر کو تاریخ میں ایک سفاک، ظالم، لیکن انتہائی ذہین اور کامیاب حکمران کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جس نے اپنی سلطنت کو ایک عروج پر پہنچایا۔

Leave a Comment