جابر بن زید الازدی رضی اللہ عنہ (وفات 93 ہجری / 711 یا 712 عیسوی) بصرہ کے ایک عظیم تابعی، فقیہ، محدث، اور مفسر تھے۔ آپ کا شمار تابعین کے فقہائے کرام اور جید علماء میں ہوتا ہے، اور آپ نے اسلامی علم کے مختلف شعبوں میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ آپ کا تعلق ازد قبیلے سے تھا، جو یمن سے تعلق رکھتا تھا اور اسلامی فتوحات کے بعد بصرہ میں آباد ہوا تھا۔
تعلیم اور اساتذہ
جابر بن زید نے کئی جلیل القدر صحابہ کرام سے علم حاصل کیا۔ ان کے اساتذہ میں شامل ہیں:
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما: آپ کے سب سے نمایاں استاد، جن سے آپ نے قرآن، تفسیر، اور فقہ کا گہرا علم حاصل کیا۔ جابر بن زید کو ابن عباس کے اجل ترین شاگردوں میں شمار کیا جاتا ہے، اور کہا جاتا ہے کہ وہ ابن عباس کی وفات کے بعد ان کے علم کے وارث تھے۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما: فقہ اور حدیث کا علم حاصل کیا۔
عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا: ام المؤمنین سے بھی آپ نے حدیث اور فقہ کے مسائل سیکھے۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ: جن سے آپ نے طویل عرصے تک استفادہ کیا۔
ان کے علاوہ، آپ نے متعدد دیگر صحابہ کرام سے بھی حدیث اور فقہ کا علم حاصل کیا، جن میں ابو ہریرہ، ابو سعید خدری، اور جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم شامل ہیں۔
فقہ میں مقام
جابر بن زید کو بصرہ کے فقہاء سبعہ (سات بڑے فقہاء) میں سے ایک شمار کیا جاتا ہے۔ یہ سات فقہاء بصرہ میں اسلامی قانون اور اجتہاد کے علمبردار تھے، بالکل اسی طرح جیسے مدینہ میں فقہاء سبعہ مشہور تھے۔ آپ کو فقہی مسائل میں گہرا ادراک حاصل تھا اور آپ کا شمار مفتیانِ بصرہ میں ہوتا تھا۔ لوگ دور دور سے اپنے مسائل کے حل کے لیے آپ کی طرف رجوع کرتے تھے۔
آپ کا فقہی منہج یہ تھا کہ آپ قرآن و سنت کو اولیت دیتے، اور اگر کسی مسئلے میں واضح نص نہ ملتی تو قیاس اور اجتہاد سے کام لیتے تھے۔ آپ کا فقہی نقطہ نظر بہت متوازن اور اعتدال پسند تھا۔
حدیث میں مقام
آپ ایک معتبر اور ثقہ محدث بھی تھے۔ آپ نے بڑی تعداد میں احادیث روایت کیں اور آپ کی روایات کو محدثین نے قبول کیا ہے۔ حدیث کی کئی بڑی کتابوں میں آپ سے روایات نقل کی گئی ہیں، جن میں صحیح بخاری، صحیح مسلم، سنن ابی داؤد، سنن ترمذی، سنن نسائی، اور سنن ابن ماجہ شامل ہیں۔ آپ کی احادیث کو سند اور متن کے اعتبار سے مستند مانا جاتا تھا۔
تفسیر اور دیگر علوم
جابر بن زید کا علم صرف فقہ اور حدیث تک محدود نہیں تھا، بلکہ آپ تفسیر قرآن کے بھی ماہر تھے۔ آپ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے تفسیر کا علم حاصل کیا تھا، جو خود “ترجمان القرآن” کہلاتے تھے۔
اس کے علاوہ آپ کو عربی زبان، انساب (خاندانی تاریخ) اور دیگر علوم میں بھی مہارت حاصل تھی۔ آپ کی شخصیت ایک ہمہ جہت عالم کی تھی جو اسلامی علوم کے مختلف شعبوں پر عبور رکھتے تھے۔
اباضیہ مکتب فکر سے تعلق
جابر بن زید کو اباضیہ مکتب فکر کا بانی فقیہ اور رہنما بھی مانا جاتا ہے۔ اباضیہ اسلام کا ایک قدیم مکتب فکر ہے جو خوارج کے ایک حصے سے الگ ہو کر تشکیل پایا۔ اگرچہ جابر بن زید کا تعلق براہ راست خوارج سے نہیں تھا اور وہ صحابہ کرام کا احترام کرتے تھے، لیکن ان کے بعض شاگرد اور پیروکار اس مکتب فکر کے ابتدائی قائدین میں شامل تھے۔ اباضیہ انہیں اپنا امام اور بنیادی فقہی اصولوں کا ماخذ قرار دیتے ہیں۔
وفات
جابر بن زید رضی اللہ عنہ کی وفات 93 ہجری (711 یا 712 عیسوی) میں بصرہ میں ہوئی، جب آپ کی عمر تقریباً 80 سال تھی۔ آپ نے ایک لمبی اور علمی خدمات سے بھرپور زندگی گزاری اور اپنے پیچھے ایک وسیع علمی میراث چھوڑی۔ آپ کا شمار ان علماء میں ہوتا ہے جنہوں نے تابعین کے دور میں اسلامی فقہ اور حدیث کی بنیادوں کو مستحکم کیا۔
