بیراسس (Berossus) ایک ہیلینسٹک دور کا بابلی کاہن، نجومی، اور تاریخ دان تھا، جو تقریباً 300 قبل مسیح میں زندہ تھا۔ اس کا تعلق قدیم بابل سے تھا اور وہ اپنے وقت کا ایک نامور دانشور سمجھا جاتا تھا۔ اس نے یونانی زبان میں بابل کی تاریخ لکھی، جو قدیم میسوپوٹامیائی تاریخ اور ثقافت کے بارے میں ہماری معلومات کا ایک اہم ماخذ ہے۔
زندگی اور پس منظر
بیراسس کاہنوں کے ایک معزز خاندان سے تعلق رکھتا تھا اور وہ بابل کے سب سے بڑے دیوتا مردوخ (Marduk) کے معبد میں کاہن کے طور پر خدمات انجام دیتا تھا۔ اس کا دور اس وقت تھا جب سکندر اعظم کی وفات کے بعد اس کی وسیع سلطنت اس کے جرنیلوں (دیادوچی) کے درمیان تقسیم ہو رہی تھی۔ بابل اور میسوپوٹیمیا سلوقی سلطنت کے کنٹرول میں آ گئے تھے، اور ہیلینسٹک ثقافت کا اثر پورے خطے میں پھیل رہا تھا۔
بیراسس نے یونانی زبان سیکھی اور یونانی حکمرانوں اور دانشوروں کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کیے۔ اس نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ بابل میں گزارا لیکن کہا جاتا ہے کہ بعد میں وہ یونانی جزیرے کوس (Cos) چلا گیا، جہاں اس نے مبینہ طور پر ایک نجومی مدرسہ قائم کیا۔
کتاب “بابل کی تاریخ” (Babylonian History یا Babyloniaca)
بیراسس کی سب سے اہم تصنیف، اور جس کی وجہ سے وہ مشہور ہوا، وہ یونانی زبان میں لکھی گئی تین جلدوں پر مشتمل کتاب “بابل کی تاریخ” (Babyloniaca) ہے۔ یہ کتاب آج مکمل طور پر موجود نہیں ہے، لیکن اس کے اقتباسات اور حوالے بعد کے یونانی اور رومی مورخین جیسے جوزیفس (Josephus)، یوسیبیئس (Eusebius)، اور الیکساندر پولیہسٹر (Alexander Polyhistor) کی تحریروں میں محفوظ ہیں۔
اس کتاب میں بیراسس نے بابل کی تاریخ کو ایک کاہن اور اسکالر کے نقطہ نظر سے پیش کیا ہے۔ اس کے موضوعات میں شامل تھے:
کائنات کی تخلیق اور بابلی دیومالا: بیراسس نے بابلی تخلیقی داستانوں کو بیان کیا، جن میں مردوخ دیوتا اور تیہامت جیسی ابتدائی ہستیوں کا ذکر ہے۔
بابل کی قدیم ترین تاریخ: اس نے سیلاب سے پہلے کے بادشاہوں، عظیم سیلاب، اور اس کے بعد کے شاہی سلسلوں کے بارے میں معلومات فراہم کیں۔
تاریخی بادشاہتیں: اس نے سمیریوں، اکادیوں، اور قدیم بابلی اور آشوری حکمرانوں کے بارے میں تفصیلات پیش کیں، جن میں مشہور بادشاہ جیسے حمورابی (Hammurabi)، نبوکدنضر اول (Nebuchadnezzar I) اور نبوکدنضر دوم (Nebuchadnezzar II) شامل ہیں۔
کلدانی نجوم اور فلکیات: چونکہ وہ خود ایک کاہن تھا، اس نے بابلی فلکیات اور نجوم کے بارے میں بھی اہم معلومات فراہم کیں۔
فارس اور مقدونیائی تسلط: اس نے فارس کے دورِ حکومت اور پھر سکندر اعظم اور اس کے جانشینوں کے بابل پر قبضے کا بھی ذکر کیا۔
اہمیت اور میراث
بیراسس کی “بابل کی تاریخ” کئی وجوہات کی بنا پر انتہائی اہم ہے:
نایاب ماخذ: یہ قدیم میسوپوٹیمیا کی تاریخ کا ایک نایاب اور مستند بابلی ماخذ ہے جو یونانی زبان میں دستیاب ہوا۔ اس نے یونانی دنیا کو بابل کی قدیم تہذیب، مذہب، اور تاریخ سے روشناس کرایا۔
عبرانی بائبل سے موازنہ: اس کی تحریریں بعض اوقات عبرانی بائبل کی کہانیوں، خاص طور پر سیلاب کی داستان اور نبوکدنضر دوم کے دور کے واقعات، سے موازنہ کے لیے اہم ثابت ہوئی ہیں۔
بابلی علم کا یونانی دنیا میں تعارف: بیراسس نے بابلی فلکیات اور نجوم کو یونانی دنیا میں متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کیا، جس کا مغربی فلکیات اور علم نجوم پر گہرا اثر پڑا۔
قابلِ اعتماد ہونے کا دعویٰ: بیراسس نے دعویٰ کیا کہ اس نے اپنی معلومات قدیم بابلی دستاویزات اور مندروں کے آرکائیوز سے حاصل کی ہیں، جو اس کی تحریروں کو ایک خاص اعتبار بخشتا ہے۔
اگرچہ اس کی کتاب مکمل طور پر موجود نہیں ہے، بیراسس کے بچے ہوئے اقتباسات نے جدید محققین کو قدیم بابل کی تاریخ، اس کی اساطیر، اور اس کے علمی کارناموں کو سمجھنے میں انمول مدد فراہم کی ہے۔ وہ ایک ایسا پل تھا جس نے قدیم بابلی حکمت کو ہیلینسٹک دنیا تک پہنچایا۔
