حسن بن صالح بن حی الثوری (وفات 167 ہجری / 783-784 عیسوی) اسلامی تاریخ کے ایک جلیل القدر فقیہ، محدث اور عابد و زاہد شخصیت تھے۔ آپ کا شمار ان کبار تابعین اور تبع تابعین میں ہوتا ہے جنہوں نے علم اور تقویٰ کے ساتھ ساتھ عملی زندگی میں بھی مثال قائم کی۔ آپ کوفہ کے مشہور علماء میں سے تھے اور آپ کے علم و فضل، ورع و تقویٰ اور سادگی کو اسلاف نے سراہا ہے۔
ابتدائی زندگی اور نسب
حسن بن صالح کا تعلق مشہور تابعی اور عالم دین ابن حی کے خاندان سے تھا۔ آپ کی کنیت “ابو عبداللہ” تھی اور آپ “الثوری” کے نام سے بھی معروف تھے، یہ نسبت بعض اوقات ان کے جد تھور سے کی جاتی ہے یا بعض محققین کے نزدیک امام سفیان ثوری (جن سے آپ نے علم حاصل کیا) سے تعلق کی وجہ سے بھی ہو سکتی ہے۔ آپ کی ولادت 100 ہجری کے لگ بھگ کوفہ میں ہوئی۔ آپ نے اپنے بھائی علی بن صالح اور ماں کے ساتھ ایک متقی اور علمی ماحول میں پرورش پائی۔
علمی اساتذہ اور شاگرد
حسن بن صالح نے بے شمار جلیل القدر علماء سے علم حاصل کیا، جن میں نمایاں طور پر شامل ہیں:
ابو اسحاق سبیعی،سماک بن حرب،عاصم الاحول،عبداللہ بن دینار،امام سفیان ثوری،مغیرہ بن مقسم
آپ سے علم حاصل کرنے والے شاگردوں میں بھی کئی نامور محدثین اور فقہاء شامل تھے، جیسے:
وکیع بن الجراح،عبدالرزاق بن ہمام،احمد بن یونس،ابونعیم الفضل بن دکین
فقہ اور حدیث میں مقام
حسن بن صالح کو ان کے دور کا ایک اعلیٰ درجے کا فقیہ اور محدث مانا جاتا تھا۔
فقہ میں: آپ کا فقہی منہج قرآن و سنت پر مبنی تھا اور آپ اجتہاد میں بڑی مہارت رکھتے تھے۔ اگرچہ وہ کسی خاص فقہی مکتب کے بانی نہیں تھے، لیکن ان کے فقہی آراء کو بہت قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔
حدیث میں: آپ ایک ثقہ (قابل اعتماد) محدث تھے۔ آپ نے بڑی تعداد میں احادیث روایت کیں، اور محدثین نے ان کی روایات کو مستند سمجھا ہے۔ آپ کی احادیث صحیح مسلم، سنن ابی داؤد، سنن ترمذی، سنن نسائی اور سنن ابن ماجہ میں موجود ہیں۔
زہد و تقویٰ: حسن بن صالح اپنی علمی حیثیت کے ساتھ ساتھ اپنے زہد، تقویٰ، اور عبادت گزاری کے لیے بھی بہت مشہور تھے۔ وہ دنیاوی مال و دولت سے بے رغبتی رکھتے تھے اور بہت سادہ زندگی گزارتے تھے۔ مشہور ہے کہ وہ راتوں کو کم سوتے اور اکثر عبادت میں مشغول رہتے تھے۔ بعض روایات کے مطابق، انہوں نے اپنے مال سے بہت سے غلام آزاد کیے۔
اہم خصوصیات اور واقعات
“حسن بن صالح” اور “حسن بن حی”: بعض اوقات آپ کو ان کے والد کے نام سے “حسن بن حی” بھی کہا جاتا ہے، لیکن زیادہ معروف نام “حسن بن صالح” ہے۔
علمی مجلسیں: آپ کوفہ میں علم و معرفت کا ایک بڑا مرکز تھے، جہاں طلباء اور علماء ان کے پاس علم حاصل کرنے کے لیے جمع ہوتے تھے۔
احتیاط اور ورع: آپ انتہائی محتاط اور پرہیزگار تھے۔ بعض اوقات وہ ایسے مسائل میں فتویٰ دینے سے بھی گریز کرتے تھے جہاں ذرا بھی شبہ ہوتا۔
وفات
حسن بن صالح بن حی الثوری نے 167 ہجری میں کوفہ میں وفات پائی۔ آپ نے اپنی پوری زندگی علم، عمل، اور تقویٰ میں گزاری اور اپنے بعد ایک عظیم علمی اور روحانی میراث چھوڑی۔ ان کا شمار اسلامی تاریخ کے ان عظیم شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی زندگی کو مکمل طور پر دین کی خدمت کے لیے وقف کر دیا۔
