شخصیات

ابرہہ

ابرہہ، جس کا پورا نام ابرهہ الحبشی تھا، حبشہ (موجودہ ایتھوپیا) کا ایک بادشاہ تھا جس نے 525ء میں یمن کو فتح کیا اور وہاں کا گورنر بن گیا۔ وہ عیسائیت کا پرجوش حامی تھا اور اس کی زندگی کا ایک اہم ترین واقعہ خانہ کعبہ پر حملہ کرنے کا اس کا ناپاک ارادہ تھا، جسے “واقعۂ فیل” یا “اصحابِ فیل” کے نام سے جانا جاتا ہے۔

ابرہہ کا پس منظر اور ارادہ:

یمن پر قبضہ کرنے کے بعد، ابرہہ نے یمن کے دارالحکومت صنعاء میں ایک شاندار گرجا گھر (کنیسہ) تعمیر کروایا جس کا نام “قلیس” رکھا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ لوگ حج کے لیے مکہ مکرمہ کے بجائے اس گرجا گھر کا طواف کریں۔ جب اس نے دیکھا کہ عرب لوگ اب بھی خانہ کعبہ کی طرف ہی رخ کر رہے ہیں اور اس کے بنائے ہوئے گرجا گھر کی طرف متوجہ نہیں ہو رہے، تو وہ شدید غصے میں آ گیا اور اس نے قسم کھائی کہ وہ خانہ کعبہ کو منہدم کر دے گا۔

کعبہ پر حملے کی تیاری اور سفر:

اپنے اس ناپاک ارادے کی تکمیل کے لیے، ابرہہ نے ایک بہت بڑا لشکر تیار کیا جس میں طاقتور ہاتھی بھی شامل تھے۔ ان ہاتھیوں میں ایک مشہور ہاتھی محمود (یا ماموت) بھی تھا جو اس کے لشکر کا سب سے بڑا اور خاص ہاتھی تھا۔ یہ لشکر 570 عیسوی میں مکہ کی طرف روانہ ہوا، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت سے تقریباً 50 یا 55 دن پہلے کا واقعہ ہے۔

راستے میں، اس نے مختلف قبائل کی مزاحمت کا سامنا کیا لیکن انہیں شکست دیتا ہوا آگے بڑھتا رہا۔ جب وہ مکہ کے قریب “مغمس” کے مقام پر پہنچا، تو اس نے اپنے ایک سردار کو مکہ کے اطراف سے مال و اسباب لوٹنے کے لیے بھیجا۔ اس دوران، اس کی فوج نے حضرت عبدالمطلب (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا) کے تقریباً 200 سے 400 اونٹ بھی چھین لیے۔

حضرت عبدالمطلب سے ملاقات:

حضرت عبدالمطلب، جو اس وقت مکہ کے سردار تھے، ابرہہ سے ملنے گئے۔ ابرہہ نے انہیں بڑے احترام سے بٹھایا اور ان سے آنے کا مقصد پوچھا۔ حضرت عبدالمطلب نے اپنے اونٹوں کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ ابرہہ کو تعجب ہوا اور اس نے کہا کہ میں تو کعبہ کو گرانے آیا ہوں اور آپ صرف اپنے اونٹوں کی بات کر رہے ہیں! حضرت عبدالمطلب نے جواب دیا: “میں اونٹوں کا مالک ہوں اور کعبہ کا ایک مالک ہے جو اس کی حفاظت کرے گا۔”

واقعۂ فیل: اللہ کا عذاب:

جب ابرہہ کا لشکر خانہ کعبہ کی طرف بڑھنے لگا تو اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا۔ قرآن کریم کی سورۃ الفیل میں اس واقعہ کو بیان کیا گیا ہے۔ اس سورت کے مطابق:

کیا تم نے نہ دیکھا کہ تمہارے رب نے ہاتھی والوں کا کیا حال کیا؟

کیا اس نے ان کے مکر کو برباد نہیں کر دیا؟

اور ان پر جھنڈ کے جھنڈ پرندے بھیجے،

جو انہیں کنکر کے پتھروں سے مارتے تھے،

تو انہیں کھائے ہوئے بھوسے کی طرح کر دیا۔

اللہ تعالیٰ نے ننھے ننھے پرندوں “ابابیل” کو بھیجا، جن کے پاس چھوٹے چھوٹے کنکر تھے۔ ان پرندوں نے ابرہہ کے لشکر پر پتھر برسائے، جس کے نتیجے میں ابرہہ اور اس کی پوری فوج تباہ و برباد ہو گئی، اور ان کی حالت ایسی ہو گئی جیسے جانوروں کا کھایا ہوا بھوسہ ہو۔ ہاتھی بھی کعبہ کی طرف بڑھنے سے انکاری ہو گئے تھے اور جب انہیں زبردستی آگے بڑھانے کی کوشش کی گئی تو وہ بیٹھ گئے یا واپس مڑ گئے۔ یہ واقعہ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور خانہ کعبہ کی حفاظت کی واضح نشانی تھا۔

اہمیت

واقعۂ فیل اسلامی تاریخ میں ایک اہم مقام رکھتا ہے کیونکہ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت سے چند دن پہلے پیش آیا، جس نے آنے والے پیغمبر کی عظمت اور خانہ کعبہ کی حرمت کو واضح کیا۔ یہ واقعہ عربوں کے دلوں میں خانہ کعبہ کی عزت کو مزید بڑھا گیا اور مشرکین مکہ بھی اس واقعے کو اللہ کی طرف سے کعبہ کی حفاظت پر محمول کرنے لگے۔

Leave a Comment