یہوداہ کے اس اخزیاہ کا دورِ حکومت بہت مختصر، تقریباً 842-841 قبل مسیح تک، رہا۔ یہ اپنے والد یہورام کا جانشین تھا اور اس کی والدہ عتلیاہ تھی، جو اسرائیل کے بدنام زمانہ بادشاہ اخی اب کی بیٹی تھی۔
ابتدائی زندگی اور حکمرانی:
اخزیاہ کا تخت پر بیٹھنا ہی اس کی ماں عتلیاہ کے اثر و رسوخ کی وجہ سے تھا، جو خود ایک مضبوط اور بت پرست عورت تھی۔ اس نے اپنے باپ یہورام کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے بت پرستی کو فروغ دیا، جس سے خدا کی نظر میں وہ ایک برا حکمران ثابت ہوا۔ اس نے خدا کے احکامات کو نظرانداز کیا اور بتوں کی پوجا میں مصروف رہا۔
اتحاد اور موت:
اخزیاہ نے اسرائیل کے اپنے ہم نام بادشاہ، یہورام (جو اخی اب کا بیٹا اور اس کا ماموں تھا) کے ساتھ اتحاد قائم کیا۔ جب یہورام رامات جلعاد کی جنگ میں زخمی ہوا تو اخزیاہ اس کی عیادت کے لیے گیا۔ اسی دوران خدا کی طرف سے بھیجا گیا ایک نبی، یاہو، یہورام کو قتل کرنے آیا۔ یاہو نے یہورام کو مار ڈالا اور اخزیاہ کو بھی اسی دوران نشانہ بنایا۔ اخزیاہ بھاگ نکلا، لیکن یاہو کے لوگوں نے اسے تعاقب کر کے مجدو کے قریب قتل کر دیا گیا۔ اس کے بعد اس کی لاش کو یروشلم لایا گیا اور وہیں دفن کیا گیا۔
انجام:
اخزیاہ کا ایک سالہ دورِ حکومت اس کی بت پرستی اور برائیوں کی وجہ سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس کی موت کے بعد، اس کی والدہ عتلیاہ نے اقتدار پر قبضہ کر لیا اور شاہی خاندان کے بیشتر افراد کو قتل کر دیا، سوائے اس کے پوتے یوآس کے جو بچا لیا گیا تھا۔ یہوداہ میں ایک تاریک دور کا آغاز ہوا۔
2. اخزیاہ، شاہِ اسرائیل (شمالی سلطنت)
اسرائیل کا اخزیاہ اپنے والد اخی اب کا بیٹا اور جانشین تھا۔ اس نے تقریباً 898-896 قبل مسیح تک حکومت کی، جو تقریباً دو سال پر محیط تھی۔ اس کا دور بھی بت پرستی اور خدا کی نافرمانی سے بھرا ہوا تھا۔
بت پرستی اور نافرمانی:
اس کا تعلق اخی اب اور ایزبل جیسے مشہور بت پرست حکمرانوں سے تھا، اور اس نے اپنے والدین کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے بعل پرستی کو فروغ دیا۔ اس نے سچے خدا کو چھوڑ کر عقرون کے دیوتا بعل زبوب کی پوجا کی۔
بیماری اور ایلیاہ نبی کا انتباہ:
ایک دفعہ وہ اپنے بالا خانے سے گر کر شدید زخمی ہو گیا۔ اپنی صحت کے بارے میں جاننے کے لیے اس نے اپنے قاصدوں کو بعل زبوب کے پاس بھیجا۔ اسی دوران ایلیاہ نبی نے خدا کے حکم سے ان قاصدوں کو روکا اور پیغام دیا کہ چونکہ بادشاہ نے سچے خدا کو چھوڑ کر بت سے رجوع کیا ہے، اس لیے وہ اپنے بستر سے نہیں اٹھے گا بلکہ مر جائے گا۔
اخزیاہ نے ایلیاہ کو گرفتار کرنے کے لیے فوج بھیجی، لیکن خدا کے حکم سے آسمان سے آگ نازل ہوئی اور اس کے بھیجے گئے سپاہیوں کو بھسم کر دیا۔ آخرکار، ایلیاہ خود بادشاہ کے پاس گیا اور اس کی موت کا اعلان کیا۔
انجام:
ایلیاہ کی پیش گوئی کے مطابق، اخزیاہ اپنے زخموں سے جانبر نہ ہو سکا اور مر گیا۔ چونکہ اس کا کوئی بیٹا نہیں تھا، اس لیے اس کا بھائی یہورام اس کا جانشین بنا۔ اسرائیل کے اس اخزیاہ کی زندگی بت پرستی کے انجام اور خدا کے انتباہات کو نظرانداز کرنے کی ایک واضح مثال ہے۔
خلاصہ: اخزیاہ نامی دونوں بادشاہ، خواہ وہ یہوداہ سے ہوں یا اسرائیل سے، اپنی بت پرستی اور خدا کی نافرمانی کی وجہ سے تاریخ میں یاد کیے جاتے ہیں۔ ان کی کہانیاں بائبل میں خدا کی راستبازی اور ان لوگوں کے انجام کی مثالیں ہیں جو اس کے احکامات سے روگردانی کرتے ہیں۔ ان کی زندگیوں سے یہ سبق ملتا ہے کہ اقتدار اور مادی طاقت کے باوجود، خدا کے قوانین کی خلاف ورزی کا انجام برا ہوتا ہے۔
