اُمیہ بن ابی الصلت السثقفی عرب کے جاہلی دور کا ایک مشہور شاعر اور مفکر تھا، جس کا تعلق طائف کے قبیلہ ثقیف سے تھا۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے ہی زندہ تھا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے شعر و شاعری اور بعض افکار کا تذکرہ فرمایا ہے۔ اُمیہ کی شخصیت اس لحاظ سے منفرد ہے کہ وہ زمانہ جاہلیت میں بھی توحید، یوم آخرت، اور انبیاء کے قصوں کے بارے میں خاصی معلومات رکھتا تھا، اگرچہ وہ اسلام قبول نہیں کر سکا۔
نسب اور تعارف
اُمیہ کا پورا نام امیہ بن ابی الصلت ربیعہ بن عوف بن عقدہ بن غاضرہ بن حطیط بن قشم بن ثقیف تھا۔ وہ اپنے زمانے کا ایک بڑا عالم، شاعر، اور ادیب مانا جاتا تھا۔ اس نے مختلف آسمانی کتابوں کا مطالعہ کیا تھا اور یہود و نصاریٰ کے اہل علم سے ملاقاتیں کی تھیں۔ اسی وجہ سے وہ اس دور کے عربوں میں توحید اور آخرت کے تصورات سے واقف تھا۔
توحیدی میلان اور معرفتِ الٰہی
اُمیہ بن ابی الصلت ان چند جاہلی عربوں میں سے تھا جو بت پرستی سے بیزار تھے اور اللہ کی وحدانیت پر یقین رکھتے تھے۔ وہ اللہ تعالیٰ کو “اللہ” کے نام سے پکارتا تھا اور مخلوق کی عبادت کو باطل سمجھتا تھا۔ اس کے اشعار میں اللہ کی عظمت، قدرت، اور توحید کا ذکر کثرت سے ملتا ہے۔
اس کے کچھ اشعار سے اس کا توحیدی رجحان واضح ہوتا ہے:
“لله آياتٌ ما كن مُعجَبَةً… لا تَعجَلَنَّ فإنَّ الموتَ مِيعادُ”
(اللہ کی نشانیاں حیرت انگیز ہیں… جلدی نہ کرو، موت ایک مقررہ وقت پر آنے والی ہے۔)
“لا تقربنّ الزنا إن كنت ذا حسبٍ… إن الزنا شرّ ما يأتيه الإنسانُ”
(زنا کے قریب نہ جاؤ اگر تو حسب و نسب والا ہے… بے شک زنا بدترین کام ہے جو انسان کرتا ہے۔)
آخرت اور انبیاء کے قصوں کا علم
امیہ کو قیامت، جنت، جہنم، حساب و کتاب، اور انبیاء کرام کے قصوں کا بھی کافی علم تھا۔ وہ تورات اور انجیل سے واقف تھا اور اس میں مذکور آدم، نوح، ہود، صالح، ابراہیم، اور لوط علیہم السلام کے واقعات کو اپنی شاعری میں بیان کرتا تھا۔ اس کی شاعری میں قوموں پر نازل ہونے والے عذابوں کا ذکر بھی پایا جاتا ہے، جس سے اس کا دینی شعور ظاہر ہوتا ہے۔
اسلام سے دوری اور حسد کا شکار ہونا
امیہ بن ابی الصلت کو یہ توقع تھی کہ آخری نبی اس کی قوم (ثقیف) یا خود اس کی ذات میں سے مبعوث ہوگا، چونکہ وہ اپنے علم اور عقائد کی بنا پر ایک خاص مقام کا حامل تھا۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی اور آپ نے نبوت کا اعلان کیا، تو اُمیہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی کو پہچانا اور آپ کے بارے میں کچھ مثبت کلمات بھی کہے، لیکن حسد اور تکبر کی وجہ سے اس نے اسلام قبول نہیں کیا۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی شاعری کو سنا اور بعض اوقات اسے پسند بھی فرمایا، کیونکہ اس میں توحید اور اخلاقی تعلیمات تھیں۔ ایک روایت کے مطابق، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “امیہ بن ابی الصلت کی شاعری ایمان لے آئی، لیکن اس کا دل ایمان نہ لایا۔” (مسلم شریف) یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اسے حق کا علم تو ہو گیا تھا لیکن نفسانی خواہشات اور قوم پرستی نے اسے اسلام قبول کرنے سے روک دیا۔
وفات اُمیہ بن ابی الصلت ہجرت سے کچھ عرصہ بعد یا ہجرت کے ابتدائی سالوں میں فوت ہوا۔ بعض روایات کے مطابق، اس کی وفات جنگ بدر کے بعد ہوئی، جب اس نے قریش کی شکست اور مسلمانوں کی فتح کی خبر سنی تو غم اور حسد سے مر گیا۔
