حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ (وفات 52 ہجری / 672 عیسوی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جلیل القدر صحابہ کرام میں سے ایک ایسے ممتاز اور محبوب شخصیت تھے جنہیں “میزبانِ رسول” کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ آپ کا اصل نام خالد بن زید بن کلیب تھا اور آپ کا تعلق انصار کے قبیلہ خزرج کی شاخ بنو نجار سے تھا۔ آپ نے اسلام کی خاطر عظیم قربانیاں دیں اور آخری عمر تک جہاد فی سبیل اللہ میں مصروف رہے۔
ابتدائی زندگی اور اسلام قبول کرنا
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے اسلام کے ابتدائی دور میں ہی اسے قبول کر لیا تھا اور آپ ان خوش نصیب انصاری صحابہ میں شامل تھے جنہوں نے بیعتِ عقبہ ثانیہ میں شرکت کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نصرت و حمایت کا عہد کیا۔
مدینہ ہجرت اور میزبانِ رسول ﷺ
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مکہ سے مدینہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی کو آزاد چھوڑ دیا کہ وہ جہاں رکے گی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہیں قیام فرمائیں گے۔ اونٹنی چلتے چلتے بنو نجار (حضرت ابو ایوب انصاری کے قبیلے) کی بستی میں حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر کے سامنے رک گئی۔
یہ دیکھ کر حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ بے حد خوش ہوئے اور فوراً آگے بڑھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سامان اپنے گھر لے گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اگلے تقریباً سات ماہ تک (یا بعض روایات کے مطابق اس سے کچھ کم و بیش) حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر کے نچلے حصے میں قیام فرمایا، جبکہ حضرت ابو ایوب اور ان کا خاندان بالائی حصے میں رہتا تھا۔ اس دوران انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی میزبانی کا حق بخوبی ادا کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر طرح کی خدمت کی۔ اسی وجہ سے آپ کو “میزبانِ رسول” کا شرف حاصل ہوا۔
فضائل و مناقب
نبی کریم ﷺ سے محبت: حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بے پناہ محبت تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان سے بہت شفقت فرماتے تھے۔
جود و سخاوت: آپ انتہائی سخی اور مہمان نواز تھے۔ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر مہاجرین کی بھرپور مدد کی، جو انصار کے ایثار کا ایک روشن باب ہے۔
عالی مرتبت مجاہد: آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمام اہم غزوات میں شرکت کی، جن میں بدر، احد، خندق اور دیگر شامل ہیں۔ آپ آخری عمر تک جہاد فی سبیل اللہ میں مصروف رہے۔
فتوحات اور آخری جہاد
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلفائے راشدین کے دور میں بھی اسلامی فتوحات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ آپ نے شام، مصر اور شمالی افریقہ کی مہمات میں شرکت کی۔
اپنی عمر کے آخری حصے میں، جب آپ کافی ضعیف ہو چکے تھے، آپ نے بھی جہاد کا جذبہ نہیں چھوڑا۔ آپ نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں ہونے والے قسطنطنیہ (موجودہ استنبول) کے پہلے اسلامی محاصرے میں شرکت کی۔ یہ محاصرہ 52 ہجری (672 عیسوی) میں ہوا تھا۔
آخری وصیت اور شہادت: محاصرے کے دوران ہی حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیمار ہو گئے اور ان کی وفات کا وقت قریب آ گیا۔ انہوں نے وصیت کی کہ انہیں رومی سرزمین میں زیادہ سے زیادہ اندر لے جا کر دفن کیا جائے تاکہ ان کی قبر دشمنوں کے لیے مرعوب کن اور مسلمانوں کے لیے تقویت کا باعث بنے۔
آپ کی وفات کے بعد، آپ کے ساتھیوں نے ان کی وصیت پر عمل کیا۔ آپ کو قسطنطنیہ کی دیواروں کے قریب دفن کیا گیا، اور مسلمان فوج نے آپ کی قبر کی حفاظت کی۔ رومیوں کو ان کی قبر کی حرمت کا احساس دلایا گیا۔
میراث
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی قبر آج بھی استنبول (ترکی) میں موجود ہے اور وہ “ایوپ سلطان مسجد” کے احاطے میں واقع ہے۔ آپ کا مزار ایک زیارت گاہ ہے اور لاکھوں مسلمان ہر سال اس کی زیارت کرتے ہیں۔
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی زندگی اس بات کی روشن مثال ہے کہ ایک مسلمان کو علم، عمل، ایثار اور جہاد کا کیسا نمونہ ہونا چاہیے۔ ان کی میزبانیِ رسول ﷺ اور آخری عمر تک جہاد فی سبیل اللہ کا عزم اسلامی تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔
