ابوبرَیدہ اسلمی رضی اللہ عنہ (پورا نام: عامر بن برَیدہ بن حسیب اسلمی یا بعض روایات میں عبداللہ بن برَیدہ) کا شمار ان جلیل القدر صحابہ کرام میں ہوتا ہے جنہوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد اپنی پوری زندگی دین کی خدمت میں صرف کر دی۔ آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے دوران اسلام قبول کیا اور آپ کی قریبی رفاقت میں رہے۔ آپ سے کثیر تعداد میں احادیث مروی ہیں اور آپ کا شمار بڑے راویانِ حدیث میں ہوتا ہے۔
قبول اسلام اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلی ملاقات
ابوبرَیدہ رضی اللہ عنہ کا تعلق مدینہ کے قریب رہنے والے قبیلہ اسلم سے تھا۔ آپ نے اسلام کی روشنی پھیلنے کے بعد جلد ہی اسے قبول کر لیا۔ آپ کی اسلام قبول کرنے کی داستان بڑی دلچسپ اور سبق آموز ہے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ سے ہجرت فرما کر مدینہ کی طرف جا رہے تھے تو راستے میں آپ کی ملاقات ابوبرَیدہ اور ان کے قبیلے کے ستر (یا اسی) افراد سے ہوئی، جو ایک چشمے کے پاس بیٹھے تھے۔ ابوبرَیدہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: “آپ کون ہیں؟” آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “میں اللہ کا رسول ہوں۔” یہ سن کر ابوبرَیدہ رضی اللہ عنہ نے فوراً اسلام قبول کر لیا، اور ان کے ساتھ ان کے قبیلے کے تمام افراد نے بھی اسلام قبول کر لیا۔
ابوبرَیدہ نے اسی وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نماز کا اہتمام کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز ادا کی۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے استقبال کے لیے اپنے نیزے پر پگڑی باندھ کر جھنڈا بنایا اور اعلان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آ گئے ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کی طرف سفر کیا۔
علمِ حدیث اور کثرتِ روایت
ابوبرَیدہ رضی اللہ عنہ ان چند خوش نصیب صحابہ میں سے تھے جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے براہِ راست کثیر تعداد میں احادیث سنی اور انہیں محفوظ کیا۔ آپ نے تقریباً 150 سے زیادہ احادیث روایت کیں، جو حدیث کی مختلف کتب، خاص طور پر صحیح مسلم اور سنن اربعہ میں موجود ہیں۔ آپ کے بیٹے عبداللہ بن برَیدہ اور سلیمان بن برَیدہ جیسے بڑے تابعین نے آپ سے روایات لی ہیں۔
آپ کی روایات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال، افعال، اور آپ کے اخلاقِ کریمانہ کے کئی پہلو بیان ہوئے ہیں۔ آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے خوابوں کی تعبیر، نماز کے احکام، جہاد کے فضائل، اور دیگر فقہی مسائل کے بارے میں بھی روایات نقل کی ہیں۔
غزوات اور فتوحات میں شرکت
ابوبرَیدہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمام بڑے غزوات میں شرکت کی، جن میں جنگ احد، جنگ خندق، فتح مکہ اور دیگر مہمات شامل ہیں۔ آپ ایک بہادر اور جانثار مجاہد تھے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد بھی آپ نے اسلامی فتوحات میں اہم کردار ادا کیا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں آپ نے خراسان کی فتوحات میں حصہ لیا اور وہاں کے علاقوں میں دینِ اسلام کی اشاعت میں کلیدی کردار ادا کیا۔ آپ نے مرو (موجودہ ترکمانستان) کو اپنا مسکن بنایا اور وہیں وفات پائی۔
قضاء (عدالت) کی ذمہ داری
ابوبرَیدہ رضی اللہ عنہ کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں بصرہ کا قاضی بھی مقرر کیا گیا تھا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ کو فقہ اور اسلامی قوانین کا گہرا علم تھا، اور لوگ آپ کی عدلیہ صلاحیتوں پر بھروسہ کرتے تھے۔
وفات
ابوبرَیدہ رضی اللہ عنہ کی وفات خراسان کے شہر مرو میں 63 ہجری (یا 64 ہجری) میں ہوئی۔ آپ نے ایک طویل اور بابرکت زندگی گزاری، جو علم کی ترویج، جہاد اور دین کی خدمت سے عبارت تھی۔
ابوبرَیدہ رضی اللہ عنہ کی زندگی ہجرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، اور ان کا فوری اسلام قبول کرنا ان کے اخلاص اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت پر ان کے یقین کا مظہر ہے۔ آپ کی روایات اور عملی زندگی آج بھی مسلمانوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہے۔
