شخصیات

ابوبکرہ رضی اللہ عنہ

ابوبکرہ رضی اللہ عنہ (اصل نام: نُفَیع بن حارث ثقفی یا مسروح بن حارث) کا شمار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ان جلیل القدر صحابہ کرام میں ہوتا ہے جنہوں نے اسلام کی خاطر اپنی غلامی کی زنجیریں توڑیں اور پھر دینِ اسلام کی خدمت میں نمایاں کردار ادا کیا۔ آپ کو اپنی کثرتِ روایت اور مختلف اسلامی فتوحات میں شرکت کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے۔

قبولِ اسلام اور آزادی

ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کا تعلق طائف کے مشہور قبیلہ بنو ثقیف سے تھا۔ وہ ابتدا میں ایک غلام تھے۔ 9 ہجری میں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کا محاصرہ کیا، تو آپ نے اعلان فرمایا کہ جو بھی غلام (محاصرے کے دوران) مسلمانوں کے لشکر میں آ جائے گا، وہ آزاد ہے۔ اس موقع پر ابوبکرہ اور کچھ دیگر غلام اپنے ساتھیوں کو چھوڑ کر مسلمانوں کے لشکر میں شامل ہو گئے، اور یوں انہیں آزادی ملی۔ اسی وجہ سے آپ کی کنیت “ابوبکرہ” پڑی، کیونکہ آپ ایک (بکرہ) چھوٹی سی دیوار کے ذریعے مسلمانوں کے کیمپ میں داخل ہوئے تھے (یہ ایک عام روایت ہے، جبکہ بعض اسے دوسرے معنی میں لیتے ہیں)۔

اسلام قبول کرنے اور آزادی حاصل کرنے کے بعد ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے اپنی زندگی کو مکمل طور پر دینِ اسلام کے لیے وقف کر دیا۔

علمِ حدیث اور روایت

ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کثیر تعداد میں احادیث روایت کیں، جن کی تعداد 132 کے قریب ہے۔ آپ کا شمار ان صحابہ میں ہوتا ہے جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و افعال کو براہ راست سنا اور انہیں محفوظ کیا۔ آپ سے حدیث روایت کرنے والوں میں آپ کے بیٹے عبداللہ، عبد الرحمٰن اور عبیداللہ شامل ہیں، اس کے علاوہ حضرت حسن بصری، محمد بن سیرین اور احنف بن قیس جیسے بڑے تابعین نے بھی آپ سے روایات لی ہیں۔

آپ کی روایات میں سے ایک مشہور حدیث یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “جب دو مسلمان اپنی تلواروں کے ساتھ ایک دوسرے کا سامنا کریں، تو قتل کرنے والا اور مقتول دونوں جہنم میں ہیں۔” (بخاری و مسلم) اس حدیث کو ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے اس وقت روایت کیا جب حضرت علی اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہم کے درمیان اختلاف تھا۔ آپ اس وقت کسی بھی فریق کی طرف سے لڑنے سے گریز کرتے تھے، اس حدیث کی بنیاد پر۔

غزوات اور فتوحات میں شرکت

ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ طائف اور دیگر غزوات میں شرکت کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد بھی آپ نے اسلامی فتوحات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔

بصرہ میں قیام: آپ کا زیادہ تر قیام بصرہ میں رہا، اور آپ نے بصرہ کی آبادی میں اہم کردار ادا کیا۔ آپ کوفہ اور بصرہ کی جنگوں میں شریک رہے۔

عراق کی فتوحات: آپ نے عراق کی فتوحات میں حصہ لیا، خاص طور پر فارس کی فتوحات میں آپ کا کردار نمایاں تھا۔

سیاسی اختلافات سے کنارہ کشی

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد جب مسلمانوں کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے اور جنگِ جمل و صفین جیسے واقعات رونما ہوئے، تو ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے فتنوں سے کنارہ کشی اختیار کی۔ آپ اس وقت بہت سے دیگر صحابہ اور تابعین کی طرح غیر جانبدار رہے، اور کسی فریق کے ساتھ شامل نہیں ہوئے۔ آپ کا یہ اقدام اس حدیثِ نبوی کی بنیاد پر تھا جو آپ نے خود روایت کی تھی (جس کا اوپر ذکر کیا گیا ہے)۔ آپ کا یہ مؤقف آپ کی بصیرت اور دینداری کی علامت تھا۔

وفات

ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کی وفات 51 ہجری یا 52 ہجری میں بصرہ میں ہوئی۔ آپ نے ایک طویل اور بابرکت زندگی گزاری، جو علمِ حدیث کی خدمت، جہاد اور سیاسی فتنوں سے کنارہ کشی سے عبارت تھی۔ آپ کا شمار بصرہ کے بڑے محدثین اور صحابہ میں ہوتا تھا۔

ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کی زندگی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ دینِ اسلام میں کسی کی نسل، حیثیت یا ماضی کی کوئی اہمیت نہیں، بلکہ ایمان اور تقویٰ ہی اصل معیار ہیں۔ آپ کی قربانیاں اور احادیث کی روایت کا عظیم کام امتِ مسلمہ کے لیے ایک قیمتی ورثہ ہے۔

Leave a Comment