امام ابو العباس احمد الدینوری، جنہیں بعض اوقات ابو العباس الدینوری کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، چوتھی صدی ہجری کے ایک نامور صوفی، عالم اور زاہد بزرگ تھے۔ ان کا تعلق دینور سے تھا، جو ایران کے شہر کرمانشاہ کے قریب واقع ہے۔ ان کی زندگی کی تفصیلات، دیگر قدیم صوفیاء کی طرح، بعض اوقات تذکروں میں مختلف حوالوں سے ملتی ہیں، تاہم ان کے علمی اور روحانی مقام پر اتفاق پایا جاتا ہے۔
ابتدائی زندگی اور حصول تصوف:
ابو العباس احمد الدینوری نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ روحانیت، علم اور تزکیہ نفس کے لیے وقف کیا۔ وہ ایک ایسے دور میں پروان چڑھے جب تصوف اپنے عروج پر تھا اور بڑے بڑے صوفی مشائخ علم و عرفان کے چراغ روشن کر رہے تھے۔ آپ نے کئی جلیل القدر صوفیاء اور علماء سے فیض حاصل کیا، جن میں:یوسف بن الحسین الرازی: جو ان کے اہم اساتذہ میں سے ایک تھے۔
عبد اللہ الخراز: جو معروف صوفی تھے۔
ابو محمد الجریری: جن کی صحبت میں بھی آپ نے وقت گزارا۔
ابو العباس بن عطاء: ایک اور مشہور صوفی شخصیت، جن سے دینوری نے استفادہ کیا۔
علمی مقام اور روحانیت:
ابو العباس الدینوری کو اہل سنت کے علماء اور صوفیاء میں نمایاں مقام حاصل تھا۔ ابو عبد الرحمن سلمی نے ان کے بارے میں کہا: “وہ شیخوں کو فتویٰ دینے والے اور بہترین طریقت اور دیانت کے مالک تھے اور لوگوں کو علم کی زبان میں بہترین الفاظ سے خطاب کرتے تھے۔” ابو قاسم قشیری نے بھی انہیں “ایک نیک عالم” قرار دیا۔
آپ کا کلام علمی گہرائی اور روحانی بصیرت سے بھرپور ہوتا تھا۔ وہ اپنے مریدین اور عام لوگوں کو حکمت اور نصیحت کی باتیں سکھاتے تھے۔ ان کے اقوال سے ان کی صوفیانہ فکر کی گہرائی کا اندازہ ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر، ان کا ایک قول ہے:
“ذکر کا سب سے ادنیٰ حصہ یہ ہے کہ وہ (ذکر کرنے والا) اس کو بھول جائے جو اس کے نیچے ہے، اور ذکر کا انجام یہ ہے کہ ذاکر ذکر میں ذکر سے بھی غائب ہو جائے۔”
یہ قول تصوف میں ذکر کے مراتب اور فنا فی الذکر کے تصور کو واضح کرتا ہے۔
تصانیف:
ابو العباس احمد الدینوری کی کسی مستقل تصنیف کا ذکر عام طور پر دستیاب نہیں ہے، تاہم ان کے اقوال اور ان سے مروی روایات کو بعد کے صوفی مشائخ اور مؤرخین نے اپنی کتب میں نقل کیا ہے۔ یہ ان کے علمی اور روحانی اثر و رسوخ کی علامت ہے۔
وفات:
ابو العباس احمد الدینوری کی وفات کے بارے میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ صاحب “نفحات الانس” کے مطابق 340 ہجری، “سفینۃ الاولیاء” کے مطابق 367 ہجری، اور “تذکرۃ الاقطاب” کے مطابق 366 ہجری میں آپ نے سمرقند میں وفات پائی۔ ان کی وفات کے بعد بھی ان کا علمی اور روحانی ورثہ ان کے شاگردوں اور بعد کے صوفیاء کے ذریعے پھیلتا رہا۔
