شخصیات

ابو مسلم اصفہانی

ابو مسلم اصفہانی، جن کا پورا نام محمد بن علی بن مہریز تھا، تیسری اور چوتھی صدی ہجری کے ایک نامور مفسر قرآن، بلند پایہ ادیب، اور معتزلی مفکر تھے۔ آپ کی کنیت ابو مسلم اور علاقے کی نسبت سے اصفہانی کہلائے۔ آپ کی ولادت تقریباً 868 عیسوی (255 ہجری) کے لگ بھگ اصفہان میں ہوئی اور وفات 934 عیسوی (322 ہجری) میں بغداد میں ہوئی۔

علمی شخصیت اور مقام:

ابو مسلم اصفہانی کا شمار اپنے دور کے ممتاز علماء اور مفکرین میں ہوتا تھا۔ وہ بیک وقت امام، مفسر، متکلم، نحوی، ادیب، مفکر اور مدبر تھے۔ ابن الندیم نے اپنی مشہور کتاب “الفہرست” میں انہیں “کاتباً بلیغاً مترسلاً جدلاً متکلماً معتزلیاً” (بلند پایہ ادیب اور متکلم) جیسے الفاظ سے یاد کیا ہے، جو ان کی فصاحت و بلاغت اور عقلی علوم میں گہری بصیرت کی عکاسی کرتا ہے۔

آپ علوم دینیہ میں مہارت تامہ رکھتے تھے اور ان کے ساتھ ساتھ انتظامی امور میں بھی اثر و رسوخ رکھتے تھے۔ خلیفہ مقتدر نے آپ کو فارس میں اپنا نائب مقرر کیا تھا، اور آپ کی کارکردگی اور دیانت داری کی وجہ سے خلیفہ کی نگاہ میں آپ کی بڑی قدر و قیمت تھی۔ سنہ 300 ہجری میں ابن ابی البغل نے آپ کو مالیات اور اراضی کا ناظم بھی مقرر کیا، جو آپ کی انتظامی صلاحیتوں کا ثبوت ہے۔

تفسیر اور معتزلی رجحان:

ابو مسلم اصفہانی کی سب سے مشہور تصنیف ان کی قرآن کی تفسیر تھی، جس کا نام “جامع التاویل المحکم التنزیل” تھا۔ افسوس کہ یہ عظیم تفسیر اب مکمل حالت میں دستیاب نہیں ہے، اور اس کا زیادہ تر حصہ ضائع ہو چکا ہے۔ تاہم، اس کے درخشندہ پہلو اور تفسیری اقوال دیگر تفاسیر میں، خصوصاً امام فخر الدین رازی کی “التفسیر الکبیر” (مفاتیح الغیب) میں جگہ جگہ ملتے ہیں۔ رازی نے اپنی تفسیر میں ان کے اقوال کو بکثرت نقل کیا ہے اور بعض مقامات پر ان کے رجحان کو بھی اپنایا ہے۔ موجودہ دور میں بھی پاکستان میں “ادارہ ثقافت اسلامیہ” کے تحت امام رازی کی تفسیر سے ابو مسلم اصفہانی کے اقوال کو جمع کر کے “مجموعہ تفسیر ابو مسلم اصفہانی” کے نام سے ایک کتاب شائع کی گئی ہے۔

دیگر تصانیف

“جامع التاویل المحکم التنزیل” کے علاوہ، ابو مسلم اصفہانی سے منسوب دیگر کتابوں کے نام بھی ملتے ہیں، جن میں “کتاب الناسخ و المنسوخ” (جس میں انہوں نے اپنے اس نظریے کی وضاحت کی ہو گی کہ قرآن میں نسخ نہیں) اور “کتاب النحو” اور “جامع رسائلہ” جیسے بلند پایہ علمی کام شامل ہیں۔ تاہم، ان میں سے اکثر کتب اب ناپید ہیں۔

وفات:

ابو مسلم اصفہانی 322 ہجری (934 عیسوی) میں بغداد میں وفات پا گئے۔ ان کی وفات سے عالم اسلام ایک عظیم مفسر اور ادیب سے محروم ہو گیا، جن کی علمی و ادبی خدمات کا اثر ان کی کتابوں کے ناپید ہونے کے باوجود آج بھی دیگر علماء کی تحریروں میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ان کا شمار ان عبقری شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے عباسی دور میں علم و ادب، تفسیر اور کلام کے میدان میں گہرے اثرات مرتب کیے۔

Leave a Comment