شخصیات

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ (اصل نام: عبدالرحمٰن بن صخر دوسی) کا شمار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جلیل القدر صحابہ کرام میں ہوتا ہے۔ آپ کو “سلطان الحدیث” اور “سرخیلِ اصحابِ صفہ” جیسے القاب سے یاد کیا جاتا ہے۔ آپ نے بہت کم عرصے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے فیض حاصل کیا، مگر اپنی غیر معمولی قوت حافظہ اور عشقِ رسول کی بدولت سب سے زیادہ احادیث روایت کرنے والے صحابی ہونے کا شرف حاصل کیا۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ یمن کے قبیلے دوس سے تعلق رکھتے تھے۔ اسلام قبول کرنے سے پہلے آپ کا نام “عبد شمس” تھا، لیکن اسلام لانے کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کا نام عبدالرحمٰن رکھ دیا۔ آپ 7 ہجری میں غزوہ خیبر کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسلام قبول کیا۔ اس وقت آپ کی والدہ بھی حیات تھیں، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کی برکت سے آپ کی والدہ نے بھی اسلام قبول کر لیا، جو ابو ہریرہ کے لیے ایک بڑی خوشی کا باعث تھا۔

آپ کی کنیت “ابو ہریرہ” (بلیوں والا) پڑنے کی وجہ یہ ہے کہ آپ کو بلیوں سے خاص انس تھا اور آپ ایک بلی کا بچہ اپنی آستین میں رکھ کر گھومتے تھے۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو اس حال میں دیکھا تو آپ کو “یا ابا ہریرہ!” کہہ کر پکارا۔ یہ کنیت اتنی مشہور ہوئی کہ لوگ آپ کا اصلی نام تک بھول گئے۔

اصحابِ صفہ اور علمِ حدیث کا حصول

اسلام قبول کرنے کے بعد ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنی زندگی مکمل طور پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اور دین کے حصول کے لیے وقف کر دی۔ آپ اصحابِ صفہ میں شامل ہو گئے، جو مسجد نبوی کے چبوترے پر رہنے والے غریب صحابہ کا ایک گروہ تھا اور جو اپنا زیادہ تر وقت علمِ دین اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کو سننے اور یاد کرنے میں گزارتے تھے۔

آپ نے تقریباً ساڑھے چار سال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں گزارے، جو بظاہر ایک مختصر مدت لگتی ہے، مگر اس دوران آپ نے غیر معمولی محنت اور لگن سے علم حاصل کیا۔ آپ کی قوتِ حافظہ مثالی تھی، اور آپ نے خود بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کی برکت سے آپ نے جو کچھ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا وہ کبھی نہیں بھولے۔ آپ کا یہ معمول تھا کہ جب دوسرے صحابہ تجارت یا زراعت میں مشغول ہوتے، آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہتے اور احادیث سنتے۔

احادیث کی روایت اور مقام

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے 5374 احادیث روایت کیں، جو صحابہ کرام میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔ ان احادیث میں سے 446 احادیث صحیح بخاری میں موجود ہیں۔ آپ کے شاگردوں کی تعداد 800 سے زائد تھی، جن میں صحابہ اور تابعین دونوں شامل تھے۔ آپ نے نہ صرف احادیث کو یاد کیا بلکہ انہیں لوگوں تک پہنچانے اور سکھانے کے لیے اپنی پوری زندگی وقف کر دی۔ آپ کا ایک مشہور مجموعہ احادیث “صحیفہ ہمام بن منبہ” کے نام سے آج بھی موجود ہے، جسے امام احمد بن حنبل نے اپنی مسند میں شامل کیا ہے۔

آپ کی کثرتِ روایت کا سبب صرف آپ کا طاقتور حافظہ ہی نہیں تھا، بلکہ یہ بھی تھا کہ:

آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا تھا۔

آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد تقریباً پچاس سال تک زندہ رہے اور اس دوران احادیث کی تعلیم دیتے رہے۔

آپ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا حاصل تھی کہ آپ کبھی کوئی حدیث نہ بھولیں۔

زہد، تقویٰ اور عملی زندگی

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نہ صرف علم کے بحرِ بے کراں تھے، بلکہ عملی طور پر بھی ایک زاہد، عابد اور متقی شخصیت تھے۔ آپ کثرت سے نوافل ادا کرتے، روزے رکھتے اور ذکر و اذکار میں مشغول رہتے تھے۔ آپ کی زندگی سادگی اور قناعت کا نمونہ تھی۔

خلافتِ راشدہ کے ادوار میں بھی آپ نے اہم خدمات انجام دیں۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے آپ کو بحرین کا گورنر مقرر فرمایا۔ آپ نے عہدِ عثمان اور عہدِ علی رضی اللہ عنہم میں بھی اپنا علمی اور دعوتی کردار جاری رکھا۔ عہدِ معاویہ میں آپ کچھ عرصہ مدینہ کے گورنر بھی رہے۔

وفات

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے 59 ہجری میں تقریباً 78 سال کی عمر میں مدینہ منورہ میں وفات پائی۔ آپ کو جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی زندگی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے والہانہ محبت، علمِ حدیث کے حصول میں غیر معمولی لگن، اور امت تک سنتِ نبوی کو پہنچانے کی انتھک جدوجہد کا ایک درخشاں باب ہے۔ آپ کی خدمات نے دین اسلام کو محفوظ کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا اور آج بھی آپ کا نام محدثین اور اہل علم کے لیے ایک روشن مثال ہے۔

Leave a Comment