شخصیات

ابُو مسعود بدری

ابو مسعود بدری رضی اللہ عنہ کا اصل نام عقبہ بن عمرو انصاری بدری تھا۔ آپ کا شمار جلیل القدر صحابہ کرام میں ہوتا ہے، اور آپ ان چند صحابہ میں سے ایک ہیں جنہیں “بدری” کا لقب ملا، حالانکہ آپ غزوہ بدر میں شریک نہیں ہوئے تھے۔ آپ کا تعلق انصار کے قبیلے خزرج سے تھا۔

لقب “بدری” کی وجہ

آپ کو “بدری” اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ آپ غزوہ بدر کے مقام کے قریب ایک کنویں، جسے “بدر” کہتے تھے، کے پاس رہتے تھے۔ اس کے علاوہ، بعض روایات کے مطابق، آپ ان صحابہ میں سے تھے جو بیعت عقبہ ثانیہ میں شریک ہوئے تھے، اور ممکن ہے اسی نسبت سے آپ کو “بدری” کہا جاتا ہو۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ “بدری” کا لقب عام طور پر ان صحابہ کے لیے استعمال ہوتا ہے جو غزوہ بدر میں بنفس نفیس شریک ہوئے تھے۔

فضائل اور خصوصیات:

ابو مسعود بدری رضی اللہ عنہ اپنی علمیت، فہم دین اور تقویٰ کے لیے مشہور تھے۔

علمِ حدیث: آپ بڑے محدث صحابی تھے۔ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کثیر احادیث روایت کی ہیں۔ آپ سے روایت کردہ احادیث کی تعداد 102 کے قریب ہے۔ آپ سے روایت کرنے والوں میں کبار تابعین اور صحابہ بھی شامل ہیں۔

فقہی بصیرت: آپ کو فقہی معاملات میں بھی گہری بصیرت حاصل تھی۔

تقویٰ اور زہد: آپ سادہ زندگی گزارتے تھے اور دنیاوی معاملات میں کم دلچسپی رکھتے تھے۔ آپ کو سچائی اور امانت داری میں بھی نمایاں حیثیت حاصل تھی۔

نبی اکرم ﷺ کے قریبی ساتھی: آپ رسول اللہ ﷺ کے قریبی صحابہ میں سے تھے اور کئی اہم مواقع پر آپ ﷺ کے ساتھ رہے۔

کچھ اہم روایات

آپ سے کئی مشہور احادیث مروی ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں:

ایک روایت کے مطابق، آپ نے فرمایا کہ “جب تمہاری شرم و حیا ختم ہو جائے تو جو چاہو کرو۔”

نماز کی امامت کے بارے میں ایک حدیث میں آپ سے مروی ہے کہ “لوگوں کی امامت وہ کرائے جو ان میں سب سے زیادہ قرآن جانتا ہو۔”

زندگی کے آخری ایام

ابو مسعود بدری رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں جنگ صفین میں شرکت کی۔ آپ کا انتقال حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت کے آخری سالوں میں یا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دورِ حکومت کے آغاز میں ہوا، یعنی تقریباً 40 یا 41 ہجری میں۔ آپ نے کوفہ میں وفات پائی۔

آپ کی زندگی اسلام کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے اور سنت نبوی کی اشاعت کی ایک درخشاں مثال ہے۔

Leave a Comment