شخصیات

اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ

حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کا شمار ان عظیم ہستیوں میں ہوتا ہے جنہوں نے مدینہ منورہ میں اسلام کی بنیاد رکھی اور رسول اکرم ﷺ کی ہجرت سے قبل ہی اسلام کی تبلیغ کا بیڑا اٹھایا۔ آپ کا نام اسعد، کنیت ابوامامہ اور لقب “اسعد الخیر” تھا، جو آپ کی نیک نامی اور خیر خواہی کا عکاس تھا۔ آپ کا تعلق مدینہ کے مشہور قبیلے بنو خزرج کی شاخ بنو نجار سے تھا، جس کا رسول اللہ ﷺ سے ننھیالی رشتہ تھا۔

ابتدائی زندگی اور قبول اسلام

حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ زمانہ جاہلیت میں بھی موحد فطرت کے مالک تھے اور بتوں کی پوجا سے متنفر تھے۔ مدینہ کے قبائل اوس اور خزرج کے درمیان جاری جنگوں اور اختلافات کے دوران، آپ اپنے ساتھی ذکوان بن عبد قیس کے ساتھ مکہ تشریف لے گئے تاکہ قریش سے مدد حاصل کر سکیں۔ اسی دوران انہیں رسول اکرم ﷺ کی نبوت کی خبر ملی۔ جب آپ ﷺ سے ملاقات ہوئی، تو آپ نے اسلام کا پیغام سنایا اور قرآن کی تلاوت فرمائی۔ اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کی توحیدی فطرت نے فوراً حق کو پہچان لیا اور وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے آپ ﷺ کی دعوت کو قبول کیا، اور یوں مدینہ کے سب سے پہلے مسلمان بننے کا شرف حاصل کیا۔

بیعت عقبہ اور تبلیغ اسلام

اسلام قبول کرنے کے بعد، آپ مدینہ واپس لوٹے اور وہاں اسلام کی خاموشی سے تبلیغ شروع کر دی۔ آپ کی کوششوں کا نتیجہ تھا کہ مدینہ سے چند افراد پر مشتمل ایک ابتدائی وفد نے حج کے موقع پر مکہ آ کر رسول اللہ ﷺ سے ملاقات کی، جو “بیعت عقبہ اولیٰ” کہلاتی ہے۔ اس بیعت میں بھی اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ شامل تھے۔

اگلے سال “بیعت عقبہ ثانیہ” ہوئی جس میں مدینہ سے ستر سے زائد افراد شامل تھے۔ اس موقع پر بھی اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ نے اہم کردار ادا کیا اور بنو نجار کے نقیب (سردار) کے طور پر بیعت میں شرکت فرمائی۔ روایات کے مطابق، اس بیعت کے وقت آپ نے حاضرین کو متنبہ کیا کہ وہ کس بات پر بیعت کر رہے ہیں، اور یہ کہ اس بیعت کا مطلب پورے عرب اور عجم سے جنگ مول لینا ہے۔ یہ آپ کی بصیرت اور حقیقت پسندی کا ثبوت تھا۔

مدینہ میں اسلام کے فروغ کے لیے آپ نے حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کو اپنے گھر میں ٹھہرایا، جنہیں رسول اللہ ﷺ نے مدینہ میں دین کی تعلیم کے لیے بھیجا تھا۔ اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ اور مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ نے مل کر مدینہ میں اسلام کی زبردست تبلیغ کی، یہاں تک کہ نقل کیا جاتا ہے کہ آپ نے شہر کے بتوں کو توڑ ڈالا اور مسلمانوں کے ساتھ نمازیں قائم کیں۔ مدینہ میں سب سے پہلی نماز جمعہ بھی آپ ہی نے قائم کی تھی۔

رسول اللہ ﷺ سے قربت اور وفات

حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ رسول اکرم ﷺ کے عاشق صادق تھے اور آپ ﷺ بھی ان سے بے حد محبت فرماتے تھے۔ ہجرت کے بعد جب رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو آپ ﷺ کی اونٹنی آپ ہی کے گھر کے قریب بیٹھی، جسے آپ اپنے گھر لے گئے اور اس کی دیکھ بھال کی سعادت حاصل کی۔ مدینہ میں مسجد نبوی کی تعمیر کے لیے جس زمین کو منتخب کیا گیا، وہ بھی آپ ہی کی ملکیت تھی۔

شوال 1 ہجری میں مسجد نبوی کی تعمیر کے دوران ہی حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کی وفات ہو گئی۔ یہ ہجرت کے بعد مدینہ میں مسلمانوں کے لیے ایک بڑا صدمہ تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے خود ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور انہیں جنت البقیع میں دفن کیا۔ آپ کی وفات پر بنو نجار کے کچھ افراد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور درخواست کی کہ ان کی جگہ کسی کو نقیب مقرر کیا جائے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ “تم لوگ میرے ماموں (ننھیالی) ہو، اس لیے میں خود تمہارا نقیب ہوں”۔ یہ حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ اور ان کے خاندان کے لیے رسول اللہ ﷺ کی محبت اور احترام کا ایک انمول ثبوت تھا۔

حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کی زندگی اسلام کی خدمت، ایثار، اور رسول اکرم ﷺ سے والہانہ محبت کا ایک روشن باب ہے۔ انہوں نے مدینہ میں اسلام کی جڑیں مضبوط کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا اور اپنی مختصر زندگی میں وہ کارنامے انجام دیے جو تاریخ اسلام میں ہمیشہ سنہرے حروف میں لکھے جائیں گے۔

Leave a Comment