شخصیات

اوس بن صامت انصاری رضی اللہ عنہ

اوس بن صامت انصاری رضی اللہ عنہ ان عظیم صحابہ کرام میں سے تھے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت کا شرف حاصل کیا اور دین اسلام کی خدمت میں اپنی زندگی وقف کر دی۔ آپ کا تعلق مدینہ منورہ کے معروف قبیلہ بنو خزرج سے تھا اور آپ انصار کے زمرے میں شامل تھے۔

نسب اور ابتدائی زندگی:

اوس بن صامت کا پورا نام اوس بن صامت بن قیس بن أصرم بن فہر بن ثعلبہ بن غنم بن مالک بن نجار تھا۔ آپ کی اہلیہ کا نام خولہ بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہا تھا۔ آپ کے بھائی حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بھی ایک جلیل القدر صحابی اور معروف عالم تھے۔ اوس بن صامت انصاری رضی اللہ عنہ کی ابتدائی زندگی کے بارے میں زیادہ تفصیلات نہیں ملتیں، لیکن مدینہ کے دیگر انصار کی طرح آپ بھی نبوت سے قبل اپنی قوم میں ایک معروف حیثیت رکھتے تھے۔

قبولِ اسلام اور غزوات میں شرکت:

اوس بن صامت رضی اللہ عنہ نے اسلام کی دعوت کو قبول کیا اور ان اولین مسلمانوں میں سے تھے جنہوں نے ہجرت کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کیا۔ آپ نے تمام اہم غزوات میں شرکت کی، جن میں غزوۂ بدر اور غزوۂ احد نمایاں ہیں۔ آپ میدان جنگ میں ثابت قدم رہے اور مسلمانوں کے شانہ بشانہ کفار کا مقابلہ کیا۔ آپ کی بہادری اور دین اسلام کے لیے فداکاری ایک مثالی کردار کی حامل ہے۔

واقعۂ ظہار اور قرآنی حکم:

اوس بن صامت رضی اللہ عنہ کی زندگی کا ایک نہایت اہم اور مشہور واقعہ وہ ہے جس کی بنا پر قرآن کریم کی سورۃ المجادلہ کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں۔ یہ واقعہ “ظہار” سے متعلق ہے۔

“ظہار” ایک جاہلی رسم تھی جس میں مرد اپنی بیوی کو اپنی ماں کی پیٹھ سے تشبیہ دے کر اس سے تعلقات منقطع کر لیتے تھے، اور اس کے بعد وہ بیوی اس مرد پر ہمیشہ کے لیے حرام ہو جاتی تھی، لیکن اسے طلاق بھی شمار نہیں کیا جاتا تھا۔

ایک دن اوس بن صامت رضی اللہ عنہ نے اپنی اہلیہ خولہ بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہا سے غصے میں آ کر ظہار کر لیا۔ انہیں بعد میں اپنی غلطی کا احساس ہوا، لیکن وہ پریشان تھے کہ اب وہ کیا کریں۔ خولہ بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہا کو بھی اس صورتحال سے سخت پریشانی لاحق ہوئی۔ وہ اس مسئلے کا حل جاننے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بتایا کہ اس وقت تک اس کا کوئی حل نہیں کیونکہ یہ جاہلی رواج تھا۔

خولہ بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہا نے بار بار اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور اپنی مشکل کی شکایت کی۔ اسی دوران اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا سن لی اور قرآن کریم کی سورۃ المجادلہ کی ابتدائی آیات نازل فرمائیں:

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّتِيْ تُجَادِلُكَ فِيْ زَوْجِهَا وَتَشْتَكِيْٓ اِلَى اللّٰهِ وَاللّٰهُ يَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌ بَصِيْرٌ

(یقیناً اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو آپ سے اپنے شوہر کے بارے میں جھگڑ رہی تھی اور اللہ سے شکایت کر رہی تھی، اور اللہ تم دونوں کی گفتگو سن رہا تھا، بے شک اللہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔)

ان آیات میں ظہار کا حکم بیان کیا گیا اور اس کا کفارہ مقرر کیا گیا۔ کفارہ یہ تھا کہ ظہار کرنے والا غلام آزاد کرے، اگر یہ ممکن نہ ہو تو مسلسل دو ماہ کے روزے رکھے، اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔ اس حکم کے نازل ہونے کے بعد اوس بن صامت رضی اللہ عنہ نے اس کفارے کو ادا کیا اور اپنی اہلیہ سے دوبارہ رشتہ قائم کر لیا۔ یہ واقعہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ صحابہ کرام کی زندگی میں پیش آنے والے واقعات بھی شریعت اسلامی کی تشکیل کا ذریعہ بنے

Leave a Comment