تفہیم القرآن جلد اول

تم پر کچھ گناہ نہیں، اگر اپنی عورتوں کو طلاق دے دو قبل اس کے کہ ہاتھ لگانے کی نوبت آئے یا مہر مقرر ہو۔ اس صورت میں انھیں کچھ نہ کچھ دینا ضرور چاہیے۔۲۶۰ خوش حال آدمی اپنی مقدرت کے مطابق اور غریب اپنی مقدرت کے مطابق معروف طریقہ سے دے۔ یہ حق ہے نیک آدمیوں پر۔ اور اگر تم نے ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دی ہو،  لیکن مہر مقرر کیا جا چکا ہو، جس کے اختیار میں عقدِ نکاح ہے،  نرمی سے کام لے ( اور پورا مہر دے دے )،  اور تم (یعنی مرد) نرمی سے کام لو، تو یہ تقویٰ سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔ آپس کے معاملات میں فیّاضی کو نہ بھولو۔ تمہارے اعمال کو اللہ دیکھ رہا ہے۔۲۶۱ اپنی نمازوں کی نگہداشت ۲۶۲ رکھو، خصوصاً ایسی نماز کی جو محاسِن صلوٰۃ کی جامع ہو۔۲۶۳ اللہ کے آگے اس طرح کھڑے ہو، جیسے فرماں بردار غلام کھڑے ہوتے ہیں۔ بدامنی کی حالت ہو تو خواہ پیدل ہو، خواہ سوار، جس طرح ممکن ہو،  نماز پڑھو۔ اور جب امن میسّر آ جائے،  تو اللہ کو اس طریقے سے یاد کرو، جو اس نے تمہیں سکھا دیا ہے،  جس سے تم پہلے ناواقف تھے۔ تم میں ۲۶۴ سے جو لوگ وفات پائیں اور پیچھے بیویاں چھوڑے جائیں، ان کو چاہیے کہ اپنی بیویوں کے حق میں یہ وصیّت کر جائیں کہ ایک سال تک ان کو نان و نفقہ دیا جائے اور وہ گھر سے نہ نکالی جائیں۔پھر اگر وہ خود نکل جائیں، تو اپنی ذات کے معاملے میں معروف طریقے سے وہ جو کچھ بھی کریں، اس کی کوئی ذمّہ داری تم پر نہیں ہے ، اللہ سب پر غالب اقتدار رکھنے والا اور حکیم و دانا ہے۔ اسی طرح جن عورتوں کو طلاق دی گئی ہو، انھیں بھی مناسب طور پر کچھ نہ کچھ دے کر رخصت کیا جائے۔ یہ حق ہے متقی لوگوں پر۔ اس طرح اللہ اپنے احکام تمہیں صاف صاف بتاتا ہے۔ امید ہے کہ تم سمجھ بوجھ کر کام کرو گے۔ ؏۳١