تفہیم القرآن جلد اول

۲۵۶-یعنی اگر کسی عورت کو اس شوہر نے طلاق دے دی ہو اور زمانۂ  عِدّت کے اندر اس سے رجُوع نہ کیا ہو، پھر عدّت گزر جانے کے بعد وہ دونوں آپس میں دوبارہ نکاح پر راضی ہوں،  تو عورت کے رشتے داروں کو اس میں مانع نہ ہونا چاہیے۔ نیز اس کا یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ جو شخص اپنی بیوی کو طلاق دے چکا ہو اور عورت عدّت کے بعد اس سے آزاد ہو کر کہیں دُوسری جگہ اپنا نکاح کرنا چاہتی ہو تو اُس سابق شوہر کو ایسی کمینہ حرکت نہ کرنی چاہیے کہ اس کے نکاح میں مانع ہو اور یہ کوشش کرتا پھرے کہ جس عورت کو اس نے چھوڑا ہے،  اُسے کوئی نکاح میں لانا قبول نہ کرے۔

۲۵۷-یہ اُس صُورت کا حکم ہے،  جبکہ زوجین ایک دُوسرے سے علیٰحدہ ہو چکے ہوں، خواہ طلاق کے ذریعے یا خُلع یا فسخ اور تفریق کے ذریعے سے،  اور عورت کی گود میں دُودھ پیتا بچّہ ہو۔

۲۵۸-یعنی اگر باپ مر جائے،  تو جو اس کی جگہ بچہ کا ولی ہو،  اُسے یہ حق ادا کرنا ہو گا۔

۲۵۹-یہ ’’عِدّتِ وفات‘‘ اُن عورتوں کے لیے بھی ہے جن سے شوہروں کی خلوتِ صحیحہ نہ ہوئی ہو۔ البتہ حاملہ عورت اس سے مستثنیٰ ہے۔ اس کی عِدّت ِ وفات وضعِ حمل تک ہے،  خواہ حمل شوہر کی وفات کے بعد ہی ہو جائے یا اِس میں کئی مہینے صرف ہوں۔

’’اپنے آپ کو روکے رکھیں‘‘ سے مُراد صرف یہی نہیں ہے کہ وہ اس مُدّت میں نکاح نہ کریں، بلکہ اس سے مراد اپنے آپ کو زینت سے بھی روکے رکھنا ہے۔ چنانچہ احادیث میں واضح طور پر یہ احکام ملتے ہیں کہ زمانۂ  عدّت میں عورت کو رنگین کپڑے اور زیور پہنّے سے،  مہندی اور سُرمہ اور خوشبو اور خضاب لگانے سے،  اور بالوں کی آرائش سے پرہیز کرنا چاہیے۔ البتّہ اس امر میں اختلاف ہے کہ آیا اس زمانے میں عورت گھر سے نکل سکتی ہے یا نہیں۔ حضرات عمر ؓ،  عثمان ؓ،  ابنِ عمر ؓ،  زید بن ثابت ؓ،  ابنِ مسعود، اُم سَلَمہ، سعید بن مُسَیِّب، ابراہیم نَخعی، محمد بن سیرین اور ائمۂ اربعہ رحمہمُ اللہ اس بات کے قائل ہیں کہ زمانۂ  عِدّت میں عورت کو اُسی گھر میں رہنا چاہیے جہاں اس کے شوہر نے وفات پائی ہو۔ دن کے وقت کسی ضرورت سے وہ باہر جا سکتی ہے،  مگر قیام اس کا اس کا اُسی گھر میں ہونا چاہیے۔ اِس کے برعکس حضرت عائشہ ؓ،  ابنِ عبّاس ؓ،  حضرت علی ؓ،  جابر بن عبداللہ،  عطاء، طاؤس، حسن بصری،  عمر بن عبدالعزیز ؓ اور تمام اہلِ الظاہر ا س بات کے قائل ہیں کہ عورت اپنی عدّت کا زمانہ جہاں چاہے گزار سکتی ہے اور اس زمانے میں سفر بھی کر سکتی ہے۔