تفہیم القرآن جلد اول

۲۹۲-اگرچہ حضرت ابراہیمؑ  کے پہلے فقرے ہی سے یہ بات واضح ہو چکی تھی کہ ربّ اللہ کے سوا کوئی دُوسرا نہیں ہو سکتا، تاہم نمرُود اس کا جواب ڈھٹائی سے دے گیا۔ لیکن دُوسرے فقرے کے بعد اس کے لیے مزید ڈھٹائی سے کچھ کہنا مشکل ہو گیا۔ وہ خود بھی جانتا تھا کہ آفتاب و ماہتاب اُسی خدا کے زیرِ فرمان ہیں، جس کو ابراہیمؑ  نے ربّ مانا ہے۔ پھر وہ کہتا، تو آخر کیا کہتا؟ مگر اس طرح جو حقیقت اس کے سامنے بے نقاب ہو رہی تھی،  اس کو تسلیم کر لینے کے معنی اپنی مطلق العنان فرماں روائی سے دست بردار ہو جانے کے تھے،  جس کے لیے اس کے نفس کا طاغوت تیار نہ تھا۔ لہٰذا وہ صرف ششدر ہی ہو کر رہ گیا، خود پرستی کی تاریکی سے نِکل کر حق پرستی کی روشنی میں نہ آیا۔ اگر اس طاغوت کے بجائے اس نے خدا کو اپنا ولی و مددگار بنایا ہوتا،  تو اس کے لیے حضرت ابراہیمؑ  کی اس تبلیغ کے بعد راہِ راست کھُل جاتی۔

تلموُد کا بیان ہے کہ اس کے بعد اس بادشاہ کے حکم سے حضرت ابراہیمؑ  قید کر دیے گئے۔ دس روز تک وہ جیل میں رہے۔ پھر بادشاہ کی کونسل نے اُن کو زندہ جلانے کا فیصلہ کیا اور ان کے آگ میں پھینکے جانے کا وہ واقعہ پیش آیا، جو سُورہ انبیاء،  رکوع ۵، العنکبوت، رکوع ۲-۳، اور الصافّات، رکوع ۴ میں بیان ہوا ہے۔

۲۹۳-یہ ایک غیر ضروری بحث ہے کہ وہ شخص کون تھا اور وہ بستی کون سی تھی۔ اصل مدّعا جس کے لیے یہاں یہ ذکر لایا گیا ہے،  صرف یہ بتانا ہے کہ جس نے اللہ کو اپنا ولی بنایا تھا، اُسے اللہ نے کس طرح روشنی عطا کی۔ شخص اور مقام، دونوں کی تعیّن کا نہ ہمارے پاس کوئی ذریعہ، نہ اس کا کوئی فائدہ۔ البتہ بعد کے بیان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جن صاحب کا یہ ذکر ہے،  وہ ضرور کوئی نبی ہوں گے۔

۲۹۴-اس سوال کے یہ معنی نہیں ہیں کہ وہ بزرگ حیات بعد الموت کے منکر تھے یا انھیں اس میں شک تھا، بلکہ دراصل وہ حقیقت کا عینی مشاہدہ چاہتے تھے،  جیسا کہ انبیا کو کرایا جاتا رہا ہے۔

۲۹۵-ایک ایسے شخص کا زندہ پلٹ کر آنا جسے دُنیا سو (۱۰۰) برس پہلے مُردہ سمجھ چکی تھی،  خود اس کو اپنے ہم عصروں میں ایک جیتی جاگتی نشانی بنا دینے کے لیے کافی تھا۔

۲۹۶-یعنی وہ اطمینان،  جو مشاہدۂ عینی سے حاصل ہوتا ہے۔