تفہیم القرآن جلد اول

۲۹۷-اس واقعے اور اُوپر کے واقعے کی بعض لوگوں نے عجیب عجیب تاویلیں کی ہیں لیکن انبیا علیہم السّلام کے ساتھ اللہ کا جو معاملہ ہے،  اُسے اگر اچھی طرح ذہن نشین کر لیا جائے،  تو کسی کھینچ تان کی ضرورت پیش نہیں آ سکتی۔ عام اہلِ ایمان کو اِس زندگی میں جو خدمت انجام دینی ہے،  اس کے لیے تو محض ایمان بالغیب (بے دیکھے ماننا) کافی ہے۔ لیکن انبیا کو جو خدمت اللہ نے سپُرد کی تھی اس کے لیے ضروری تھا کہ وہ اپنی آنکھوں سے وہ حقیقتیں دیکھ لیتے جن پر ایمان لانے کی دعوت انہیں دُنیا کو دینی تھی۔ اُن کو دُنیا سے پُورے زور کے ساتھ یہ کہنا تھا کہ تم لوگ تو قیاسات دَوڑاتے ہو، مگر ہم آنکھوں دیکھی بات کہہ رہے ہیں۔ تمہارے پاس گمان ہے اور ہمارے پاس علم ہے،  تم اندھے ہو اور ہم بینا ہیں۔ اِسی لیے انبیا کے سامنے فرشتے عیاناً آئے ہیں، ان کو آسمان و زمین کے نظامِ حکومت(ملکوت) کا مشاہدہ کرایا گیا ہے،  ان کو جنت اور دوزخ آنکھوں سے دکھائی گئی ہے،  اور بعث بعد الموت کا ان کے سامنے مظاہرہ کر کے دکھا یا گیا ہے۔ ایمان بالغیب کی منزل سے یہ حضرات منصب نبوّت پر مامور ہونے سے پہلے گزر چکے ہوتے ہیں۔ نبی ہونے کے بعد ان کو ایمان بالشہادۃ کی نعمت دی جاتی ہے اور یہ نعمت اُنہی کے ساتھ مخصُوص ہے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوم،  صفحہ نمبر ۳۳۰ و ۳۳۴)۔