تفہیم القرآن جلد اول

۲۹۸ جو لوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں صرف کرتے ہیں، ۲۹۹ ان کے خرچ کی مثال ایسی ہے،  جیسے ایک دانا بویا جائے اور اس کے سات بالیں نکلیں اور ہر بال میں سو دانے ہوں۔ اسی طرح اللہ جس کے عمل کو چاہتا ہے،  افزونی عطا فرماتا ہے۔ وہ فراخ دست بھی ہے اور علیم بھی۔۳۰۰ جو لوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور خرچ کر کے پھر احسان نہیں جتاتے،  نہ دکھ دیتے ہیں،  ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور ان کے لیے کسی رنج اور خوف کا موقع نہیں۔۳۰۱ایک میٹھا بول اور کسی ناگوار بات پر ذرا سی چشم پوشی اس خیرات سے بہتر ہے،  جس کے پیچھے دکھ ہو۔ اللہ بے نیاز ہے اور برد باری اس کی صفت ۳۰۲ ہے۔اے ایمان لانے والو!اپنے صدقات کو احسان جتا کر اور دکھ دے کر اس شخص کی طرح خاک میں نہ ملا دو،  جو اپنا مال محض لوگوں کے دکھانے کو خرچ کرتا ہے اور نہ اللہ پر ایمان رکھتا ہے،  نہ آخرت ۳۰۳ پر۔ اس کے خرچ کی مثال ایسی ہے،  جیسے ایک چٹان تھی، جس پر مٹی کی تہہ جمی ہوئی تھی۔ اس پر جب زور کا مینہ برسا، تو ساری مٹی بہہ گئ اور صاف چٹان کی چٹان رہ گئی۔۳۰۴ ایسے لوگ اپنے نزدیک خیرات کر کے جو نیکی کماتے ہیں، اس سے کچھ بھی ان کے ہاتھ نہیں آتا، اور کافروں کو سیدھی راہ دکھا نا اللہ کا دستور نہیں ہے ۳۰۵۔بخلاف اس کے جو لوگ اپنے مال محض اللہ کی رضا جوئی کے لیے دل کے پورے ثبات و قرار کے ساتھ خرچ کرتے ہیں، ان کے خرچ کی مثال ایسی ہے،  جیسے کسی سطح مرتفع پر ایک باغ ہو۔ اگر زور کی بارش ہو جائے تو دوگنا پھل لائے،  اور اگر زور کی بارش نہ بھی ہو تو ایک ہلکی پھوار ہی اس کے لیے کافی ہو جائے۔۳۰۶ تم جو کچھ کرتے ہو،  سب اللہ کی نظر میں ہے۔کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ اس کے پاس ایک ہرا بھرا باغ ہو، نہروں سے سیراب، کھجوروں اور انگوروں اور ہر قسم کے پھلوں سے لدا ہوا ہو، اور وہ عین اس وقت ایک تیز بگولے کی زد میں آ کر جھلس جائے،  جبکہ وہ خود بوڑھا ہو اور اس کے کمسن بچے ابھی کسی لائق نہ ہوں؟۳۰۷ اس طرح اللہ اپنی باتیں تمہارے سامنے بیان کرتا ہے،  شاید کہ تم غور و فکر کرو۔ ؏۳٦