۸-یہ چھٹی اور آخری شرط ہے۔ ’’آخرت‘‘ ایک جامع لفظ ہے جس کا اطلاق بہت سے عقائد کے مجموعے پر ہوتا ہے۔ اس میں حسبِ ذیل عقائد شامل ہیں:
(۱) یہ کہ انسان اِس دُنیا میں غیر ذمہ دار نہیں ہے بلکہ اپنے تمام اعمال کے لیے خدا کے سامنے جواب دہ ہے۔
(۲) یہ کہ دُنیا کا موجودہ نظام ابدی نہیں ہے بلکہ ایک وقت پر، جسے صرف خدا ہی جانتا ہے، اس کا خاتمہ ہو جائے گا۔
(۳) یہ کہ اس عالم کے خاتمے کے بعد خدا ایک دُوسرا عالم بنائے گا اور اس میں پوری نوعِ انسانی کو جو ابتدائے آفرینش سے قیامت تک زمین پر پیدا ہوئی تھی، بیک وقت دوبارہ پیدا کرے گا، اور سب کو جمع کر کے ان کے اعمال کا حساب لے گا، اور ہر ایک کو اس کے کیے کا پورا پورا بدلہ دے گا۔
(۴) یہ کہ خدا کے اس فیصلے کی رُو سے جو لوگ نیک قرار پائیں گے وہ جنّت میں جائیں گے اور جو لوگ بد ٹھہریں گے وہ دوزخ میں ڈالے جائیں گے۔
(۵) یہ کہ کامیابی و ناکامی کا اصلی معیار موجودہ زندگی کی خوشحالی و بدحالی نہیں ہے، بلکہ در حقیقت کامیاب انسان وہ ہے جو خدا کے آخری فیصلے میں کامیاب ٹھہرے، اور ناکام وہ ہے جو وہاں ناکام ہو۔
عقائد کے اِس مجموعے پر جن لوگوں کو یقین نہ ہو وہ قرآن سے کوئی فائدہ نہیں اُٹھا سکتے، کیونکہ ان باتوں کا انکار تو درکنار، اگر کسی کے دل میں ان کی طرف سے شک اور تذبذب بھی ہو، تو وہ اس راستہ پر نہیں چل سکتا جو انسانی زندگی کے لیے قرآن نے تجویز کیا ہے۔
۹-یعنی وہ چھ کی چھ شرطیں، جِن کا ذکر اُوپر ہوا ہے، پوری نہ کیں، اور ان سب کو، یا اِن میں سے کسی ایک کو بھی قبول کرنے سے انکار کر دیا۔
۱۰-اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اللہ نے مُہر لگا دی تھی، اِس لیے اُنہوں نے تسلیم کرنے سے انکار کیا، بلکہ مطلب یہ ہے کہ جب اُنہوں نے اُن بنیادی اُمور کو رد کر دیا جن کا ذکر اُوپر کیا گیا ہے، اور اپنے لیے قرآن کے پیش کردہ راستہ کے خلاف دُوسرا راستہ پسند کر لیا، تو اللہ نے اُن کے دِلوں اور کانوں پر مُہر لگا دی۔ اِس مُہر لگنے کی کیفیت کا تجربہ ہر اُس شخص کو ہو گا جسے کبھی تبلیغ کا اتفاق ہوا ہو۔ جب کوئی شخص آپ کے پیش کردہ طریقے کو جانچنے کے بعد ایک دفعہ رد کر دیتا ہے، تو اس کا ذہن کچھ اس طرح مخالف سمت میں چل پڑتا ہے کہ پھر آپ کی کوئی بات اس کی سمجھ میں نہیں آتی، آپ کی دعوت کے لیے اس کے کان بہرے، اور آپ کے طریقے کی خوبیوں کے لیے اس کی آنکھیں اندھی ہو جاتی ہیں، اور صریح طور پر محسوس ہوتا ہے کہ فی الواقع اس کے دل پر مُہر لگی ہوئی ہے۔
