بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لائے ہیں،حالانکہ درحقیقت وہ مومن نہیں ہیں۔ وہ اللہ اور ایمان لانے والوں کے ساتھ دھوکہ بازی کر رہے ہیں،مگر دراصل وہ خود اپنے آپ ہی کو دھوکے میں ڈال رہے ہیں اور انہیں اس کا شعُور نہیں ہے ۱۱۔ ان کے دلوں میں ایک بیماری ہے جسے اللہ نے اور زیادہ بڑھا ۱۲ دیا،اور جو جھوٹ وہ بولتے ہیں،اس کی پاداش میں ان کے لئے درد ناک سزا ہے۔ جب کبھی ان سے کہا گیا کہ زمین میں فساد برپا نہ کرو، تو اُنہوں نے یہی کہا کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں۔ خبردار!حقیقت میں یہی لوگ مفسد ہیں مگر انہیں شعُور نہیں۔ اور جب ان سے کہا گیا کہ جس طرح دوسرے لوگ ایمان لائے ہیں اُسی طرح تم بھی ایمان ۱۳ لاؤ تو انہوں نے یہی جواب دیا کیا ہم بیوقوفوں کی طرح ایمان ۱۴ لائیں؟ خبردار ! حقیقت میں تو یہ خود بیوقوف ہیں،مگر یہ جانتے نہیں ہیں۔ جب یہ اہلِ ایمان سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں، اور جب علیٰحدگی میں اپنے شیطانوں ۱۵ سے ملتے ہیں،تو کہتے ہیں کہ اصل میں تو ہم تمھارے ساتھ ہیں اور اُن لوگوں سے محض مذاق کر رہے ہیں۔ اللہ ان سے مذاق کر رہا ہے، وہ ان کی رسّی دراز کیے جاتا ہے، اور یہ اپنی سرکشی میں اندھوں کی طرح بھٹکتے چلے جاتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بد لے گمراہی خرید لی ہے، مگر یہ سودا ان کے لئے نفع بخش نہیں ہے اور یہ ہر گز صحیح راستے پر نہیں ہیں۔ ان کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے آگ روشن کی اور جب اُس نے سارے ماحول کو روشن کر دیا تو اللہ نے ان کا نورِ بصارت سلب کر لیا اور انہیں اس حال میں چھوڑ دیا کہ تاریکیوں میں انہیں کچھ نظر نہیں آتا۔ ۱۶ یہ بہرے ہیں،گونگے ہیں،اندھے ۱۷ ہیں،یہ اب نہ پلٹیں گے۔ یا پھر ان کی مثال یوں سمجھو کہ آسمان سے زور کی بارش ہو رہی ہے اور اس کے ساتھ اندھیر ی گھٹا اور کڑک اور چمک بھی ہے، یہ بجلی کے کڑاکے سُن کے اپنی جانوں کے خوف سے کانوں میں اُنگلیاں ٹھونسے لیتے ہیں اور اللہ ان منکرین حق کو ہر طرف سے گھیرے میں لیے ہوئے ہے۔۱۸ چمک سے ان کی حالت یہ ہو رہی ہے کہ گویا عنقریب بجلی اِن کی بصارت اُچک لے جائے گی۔جب ذرا کچھ روشنی انہیں محسُوس ہوتی ہے تو اس میں کچھ دُور چل لیتے ہیں اور جب ان پر اندھیرا چھا جاتا ہے تو کھڑے ہو جاتے ہیں ۱۹۔اللہ چاہتا تو ان کی سماعت اور بصارت بالکل سَلب کر لیتا،۲۰ یقیناً وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ ؏۲
۱۱-یعنی وہ اپنے آپ کو اس غلط فہمی میں مُبتلا کر رہے ہیں کہ ان کی یہ منافقانہ روش ان کے لیے مفید ہو گی، حالانکہ دراصل یہ ان کو دُنیا میں بھی نقصان پہنچائے گی اور آخرت میں بھی۔ دُنیا میں ایک منافق چند روز کے لیے لوگوں کو دھوکا دے سکتا ہے مگر ہمیشہ اس کا دھوکا نہیں چل سکتا۔ آخر کار اس کی منافقت کا راز فاش ہو کر رہتا ہے۔ اور پھر معاشرے میں اس کی کوئی ساکھ باقی نہیں رہتی۔ رہی آخرت، تو وہاں ایمان کا زبانی دعویٰ کوئی قیمت نہیں رکھتا اگر عمل اس کے خلاف ہو۔
۱۲-بیماری سے مراد منافقت کی بیماری ہے۔ اور اللہ کے اس بیماری میں اضافہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ منافقین کو ان کے نفاق کی سزا فوراً نہیں دیتا بلکہ انہیں ڈھیل دیتا ہے اور اس ڈھیل کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ منافق لوگ اپنی چالوں کو بظاہر کامیاب ہوتے دیکھ کر اور زیادہ مکمل منافق بنتے چلے جاتے ہیں۔
۱۳-یعنی جس طرح تمہاری قوم کے دُوسرے لوگ سچائی اور خلوص کے ساتھ مسلمان ہوئے ہیں اسی طرح تم بھی اگر اسلام قبول کرتے ہو تو ایمانداری کے ساتھ سچے دل سے قبول کرو۔
۱۴-وہ اپنے نزدیک ان لوگوں کو بے وقوف سمجھتے تھے جو سچائی کے ساتھ اسلام قبول کر کے اپنے آپ کو تکلیفوں اور مشقّتوں اور خطرات میں مُبتلا کر رہے تھے۔ ان کی رائے میں یہ سراسر احمقانہ فعل تھا کہ محض حق اور راستی کی خاطر تمام ملک کی دُشمنی مول لے لی جائے۔ ان کے خیال میں عقل مندی یہ تھی کہ آدمی حق اور باطل کی بحث میں نہ پڑے، بلکہ ہر معاملے میں صرف اپنے مفاد کو دیکھے۔
۱۵-شیطان عربی زبان میں سرکش، متمرّد اور شوریدہ سر کو کہتے ہیں۔ انسان اور جِنّ دونوں کے لیے یہ لفظ مستعمل ہوتا ہے۔ اگر چہ قرآن میں یہ لفظ زیادہ تر شیاطین جِنّ کے لیے آیا ہے، لیکن بعض مقامات پر شیطان صفت انسانوں کے لیے بھی یہ استعمال کیا گیا ہے اور سیاق و سباق سے بآسانی معلوم ہو جا تا ہے کہ کہاں شیطان سے انسان مُراد ہیں اور کہاں جِنّ۔ اِس مقام پر شیاطین کا لفظ اُن بڑے بڑے سرداروں کے لیے استعمال ہوا ہے، جو اس وقت اسلام کی مخالفت میں پیش پیش تھے۔
