تفہیم القرآن جلد اول

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جو مال تم نے کمائے ہیں اور جو کچھ ہم نے زمین سے تمہارے لیے نکالا ہے،  اس میں سے بہتر حصہ راہ خدا میں خرچ کرو۔ ایسا نہ ہو کہ اس کی راہ میں دینے کے لیے بری سے بری چیز چھانٹنے کی کوشش کرنے لگو، حالانکہ وہی چیز اگر کوئی تمہیں دے،  تو تم ہرگز اسے لینا گوارا نہ کرو گے اِلّا یہ کہ اس کو قبول کرنے میں تم اغماض برت جاؤ۔تمہیں جان لینا چاہیے کہ اللہ بے نیاز ہے اور بہترین صفات سے متصف ہے ۳۰۸۔ شیطان تمہیں مفلسی سے ڈراتا ہے اور شرمناک طرزِ عمل اختیار کرنے کی ترغیب دیتا ہے،  مگر اللہ تمہیں اپنی بخشش اور فضل کی اُمید دلاتا ہے۔ اللہ بڑا فراخ دست اور دانا ہے۔ جس کو چاہتا ہے حکمت عطا کرتا ہے،  اور جس کو حکمت ملی،  اُسے حقیقت میں بڑی دولت مل گئی۔۳۰۹ اِن باتوں سے صرف وہی لوگ سبق لیتے ہیں، جو دانشمند ہیں۔ تم نے جو کچھ بھی خرچ کیا ہو اور جو نظر بھی مانی ہو،  اللہ کو اُس کا علم ہے،  اور ظالموں کا کوئی مدد گار نہیں۔۳۱۰ اگر اپنے صدقات اعلانیہ دو، تو یہ بھی اچھا ہے،  لیکن اگر چھپا کر حاجت مندوں کودو، تو یہ تمہارے حق میں زیادہ بہتر ہے۔۳۱۱ تمہاری بہت سی بُرائیاں اِس طرزِ عمل سے محو ہو جاتی ہیں۔۳۱۲ اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ کو بہر حال اُس کی خبر ہے۔لوگوں کو ہدایت بخش دینے کی ذمّے داری تم پر نہیں ہے۔ ہدایت تو اللہ ہی جسے چاہتا ہے بخشتا ہے۔ اور خیرات میں جو مال تم خرچ کرتے ہو وہ تمہارے اپنے لیے بھلا ہے۔ آخر تم اسی لیے تو خرچ کرتے ہو کہ اللہ کی رضا حاصل ہو۔ تو جو کچھ مال تم خیرات کرو گے،  اس کا پُورا پُورا اجر تمہیں دیا جائے گا اور تمہاری حق تلفی ہرگز نہ ہو گی۔ ۳۱۳خاص طور پر مدد کے مستحق وہ تنگ دست لوگ ہیں جو اللہ کے کام میں ایسے گھِر گئے ہیں کہ اپنی ذاتی کسبِ معاش کے لیے زمین میں کوئی دَوڑ دھوپ نہیں کر سکتے۔ان کی خود داری دیکھ کرنا واقف آدمی گمان کرتا ہے کہ یہ خوش حال ہیں۔ تم ان کے چہروں سے ان کی اندرونی حالت پہچان سکتے ہو۔ مگر وہ ایسے لوگ نہیں ہیں کہ لوگوں کے پیچھے پڑ کر کچھ مانگیں۔ اُن کی اعانت میں جو کچھ مال تم خرچ کرو گے وہ اللہ سے پوشیدہ نہ رہے گا۔ ۳۱۴ ؏۳۷