تفہیم القرآن جلد اول

۳۰۸-ظاہر ہے کہ جو خود اعلیٰ درجہ کی صفات سے متّصف ہو، وہ بُرے اوصاف رکھنے والوں کو پسند نہیں کر سکتا۔ اللہ تعالیٰ خود فیاض ہے اور اپنی مخلوق پر ہر آن بخشش و عطا کے دریا بہا رہا ہے۔ کس طرح ممکن ہے کہ وہ تنگ نظر، کم حوصلہ اور پست اخلاق لوگوں سے محبت کرے۔

۳۰۹-حکمت سے مراد صحیح بصیرت اور صحیح قوّتِ فیصلہ ہے۔ یہاں اس ارشاد سے مقصود یہ بتانا ہے کہ جس شخص کے پاس حکمت کی دولت ہو گی، وہ ہرگز شیطان کی بتائی ہوئی راہ پر نہ چلے گا، بلکہ اُس راہِ کشادہ کو اختیار کرے گا جو اللہ نے دکھائی ہے۔ شیطان کے تنگ نظر مریدوں کی نگاہ میں یہ بڑی ہوشیاری اور عقل مندی ہے کہ آدمی اپنی دولت کو سنبھال سنبھال کر رکھے اور ہر وقت مزید کمائی کی فکر ہی میں لگا رہے۔ لیکن جن لوگوں نے اللہ سے بصیرت کا نُور پایا ہے،  اُن کی نظر میں یہ عین بے وقوفی ہے۔ حکمت و دانائی اُن کے نزدیک یہ ہے کہ آدمی جو کچھ کمائے،  اُسے اپنی متوسط ضروریات پوری کرنے کے بعد دل کھول کر بھلائی کے کاموں میں خرچ کرے۔ پہلا شخص ممکن ہے کہ دُنیا کی اس چند روزہ زندگی میں دُوسرے کی بہ نسبت بہت زیادہ خوشحال ہو، لیکن انسان کے لیے یہ دُنیا کی زندگی پُوری زندگی نہیں، بلکہ اصل زندگی کا ایک نہایت چھوٹا سا جُز ہے۔ اس چھوٹے سے جُز کی خوش حالی کے لیے جو شخص بڑی اور بے پایاں زندگی کی بدحالی مول لیتا ہے،  وہ حقیقت میں سخت بے وقوف ہے۔ عقل مند دراصل وہی ہے،  جس نے اس مختصر زندگی کی مہلت سے فائدہ اُٹھا کر تھوڑے سرمایے ہی سے اُس ہمیشگی کی زندگی میں اپنی خوشحالی کا بندوبست کر لیا۔

۳۱۰-خرچ خواہ راہِ خدا میں کیا ہو یا راہِ شیطان میں،  اور نذر خواہ اللہ کے لیے مانی ہو یا غیر اللہ کے لیے،  دونوں صُورتوں میں آدمی کی نیّت اور اس کے فعل سے اللہ خوب واقف ہے۔ جنہوں نے اُس کے لیے خرچ کیا ہو گا اور اس کی خاطر نذر مانی ہو گی، وہ اس کا اجر پائیں گے اور جن ظالموں نے شیطانی راہوں میں خرچ کیا ہو گا اور اللہ کو چھوڑ کر دُوسروں کے لیے نذر مانی ہوں گی اُن کو خدا کی سزا سے بچانے کے لیے کوئی مددگار نہ ملے گا۔

نذر یہ ہے کہ آدمی اپنی کسی مُراد کے بر آنے پر کسی ایسے خرچ یا کسی ایسی خدمت کو اپنے اُوپر لازم کر لے،  جو اس کے ذمّے فرض نہ ہو۔ اگر یہ مراد کسی حلال و جائز امر کی ہو، اور اللہ سے مانگی گئی ہو، اور اس کے بر آنے پر جو عمل کرنے کا عہد آدمی نے کیا ہے،  وہ اللہ ہی کے لیے ہو، تو ایسی نذر اللہ کی اطاعت میں ہے اور اس کا پورا کرنا اجر و ثواب کا موجب ہے۔ اگر یہ صُورت نہ ہو،  تو ایسی نذر کا ماننا معصیت اور اس کا پُورا کرنا مُوجبِ عذاب ہے۔