اخلاقی و رُوحانی حیثیت سے دیکھیے، تو یہ بات بالکل واضح ہے کہ سُود دراصل خود غرضی، بخل، تنگ دلی اور سنگ دلی جیسی صفات کا نتیجہ ہے اور وہ اِنہی صفات کو انسان میں نشو و نما بھی دیتا ہے۔ اس کے برعکس صدقات نتیجہ ہیں فیّاضی، ہمدردی، فراخ دِلی اور عالی ظرفی جیسی صفات کا، اور صدقات پر عمل کرتے رہنے سے یہی صفات انسان کے اندر پرورش پاتی ہیں۔ کون ہے جو اخلاقی صفات کے ان دونوں مجموعوں میں سے پہلے مجموُ عے کو بدترین اور دُوسرے کو بہترین نہ مانتا ہو؟
تمدّنی حیثیت سے دیکھیے، تو بادنیٰ تامّل یہ بات ہر شخص کی سمجھ میں آ جائے گی کہ جس سوسائیٹی میں افراد ایک دُوسرے کے ساتھ خود غرضی کا معاملہ کریں، کوئی شخص اپنی ذاتی غرض اور اپنے ذاتی فائدے کے بغیر کسی کے کام نہ آئے، ایک آدمی کی حاجت مندی کو دُوسرا آدمی اپنے لیے نفع اندوزی کا موقع سمجھے اور اس کا پورا فائدہ اُٹھائے، اور مالدار طبقوں کا مفاد عامُة الناس کے مفاد کی ضد ہو جائے، ایسی سوسائٹی کبھی مستحکم نہیں ہو سکتی۔ اس کے افراد میں آپس کی محبت کے بجائے باہمی بغض و حسد اور بے دردی و بے تعلقی نشو نما پائے گی۔ اس کے اجزا ہمیشہ انتشار و پراگندگی کی طرف مائل رہیں گے۔ اور اگر دُوسرے اسباب بھی اِس صورتِ حال کے لیے مددگار ہو جائیں، تو ایسی سوسائیٹی کے اجزا کا باہم متصادم ہو جانا بھی کچھ مشکل نہیں ہے۔ اس کے برعکس جس سوسائیٹی کا اجتماعی نظام آپس کی ہمدردی پر مبنی ہو، جس کے افراد ایک دُوسرے کے ساتھ فیاضی کا معاملہ کریں، جس میں ہر شخص دُوسرے کی حاجت کے موقع پر فراخ دلی کے ساتھ مدد کا ہاتھ بڑھائے، اور جس میں با وسیلہ لوگ بے وسیلہ لوگوں سے ہمدردانہ اعانت یا کم از کم منصفانہ تعاون کا طریقہ برتیں، ایسی سوسائیٹی میں آپس کی محبت، خیر خواہی اور دلچسپی نشو و نما پائے گی۔ اس کے اجزا ایک دُوسرے کے ساتھ پیوست اور ایک دُوسرے کے پشتیبان ہوں گے۔ اس میں اندرونی نزاع و تصادم کو راہ پانے کا موقع نہ مل سکے گا۔ اس میں باہمی تعاون اور خیر خواہی کی وجہ سے ترقی کی رفتار پہلی قسم کی سوسائیٹی کی بہ نسبت بہت زیادہ تیز ہو گی۔
