تفہیم القرآن جلد اول

اب معاشی حیثیت سے دیکھیے۔ معاشیات کے نقطۂ  نظر سے سُودی قرض کی دو قسمیں ہیں׃ایک وہ قرض جو اپنی ذاتی ضروریات پر خرچ کر نے کے لیے مجبُور اور حاجت مند لوگ لیتے ہیں۔ دوسرا وہ قرض جو تجارت و صنعت و حرفت اور زراعت وغیرہ کے کاموں پر لگانے کے لیے پیشہ ور لوگ لیتے ہیں۔ ان میں سے پہلی قسم کے قرض کو تو ایک دُنیا جانتی ہے کہ اس پر سُود وصول کرنے کا طریقہ نہایت تباہ کُن ہے۔ دُنیا کا کوئی ملک ایسا نہیں ہے جس میں مہاجن افراد اور مہاجنی ادارے اس ذریعے سے غریب مزدُوروں کا،  کاشتکاروں اور قلیل المعاش عوام کا خون نہ چُوس رہے ہوں۔ سود کی وجہ سے اس قسم کا قرض ادا کرنا ان لوگوں کے لیے سخت مشکل، بلکہ بسا اوقات نا ممکن ہو جا تا ہے۔ پھر ایک قرض کو ادا کرنے کے لیے وہ دُوسرا اور تیسرا قرض لیتے چلے جاتے ہیں۔ اصل رقم سے کئی کئی گنا سُود دے چکنے پر بھی اصل رقم جُوں کی تُوں باقی رہتی ہے۔ محنت پیشہ آدمی کی آمدنی کا پیشتر حصّہ مہاجن لے جاتا ہے اور اس غریب کی اپنی کمائی میں سے اس کے پاس اپنا اور اپنے بچّوں کا پیٹ پانے لیے بھی کافی روپیہ نہیں بچتا۔ یہ چیز رفتہ رفتہ اپنے کام سے کارکنوں کی دلچسپی ختم کر دیتی ہے۔ کیونکہ جب ان کی محنت کا پھل دُوسرا لے اُڑے تو وہ کبھی دِل لگا کر محنت نہیں کر سکتے۔ پھر سُودی قرض کے جال میں پھنسے ہوئے لوگوں کو ہر وقت کی فکر اور پریشانی اس قدر گھُلا دیتی ہے،  اور تنگ دستی کی وجہ سے ان کے لیے صحیح غذا اور علاج اس قدر مشکل ہو جاتا ہے،  کہ ان کی صحتیں کبھی درُست نہیں رہ سکتیں۔ اس طرح سُودی قرض کا حاصل یہ ہوتا ہے کہ چند افراد تو لاکھوں آدمیوں کا خون چُوس چُوس کر موٹے ہوتے رہتے ہیں، مگر بحیثیت مجموعی پوری قوم کی پیدائشِ دولت اپنے امکانی معیار کی بہ نسبت بہت گھٹ جاتی ہے،  اور مآلِ کار میں خود وہ خون چوسنے والے افراد بھی اس کے نقصانات سے نہیں بچ سکتے کیونکہ ان کی اس خود غرضی سے غریب عوام کو جو تکلیفیں پہنچتی ہیں ان کی بدولت مال دار لوگوں کے خلاف غصّے اور نفرت کا ایک طوفان دلوں میں اُٹھتا اور گھُٹتا رہتا ہے،  اور کسی انقلابی ہیجان کے موقع پر جب یہ آتش فشاں پھٹتا ہے تو ان ظالم مالداروں کو اپنے مال کے ساتھ اپنی جان اور آبرو تک سے ہاتھ دھونا پڑ جاتا ہے۔

رہا دُوسری قسم کا قرض جو کاروبار میں لگانے کے لیے لیا جاتا ہے،  تو اس پر ایک مقرر شرحِ سُود کے عائد ہونے سے جو بے شمار نقصانات پہنچتے ہیں ان میں سے چند نمایاں ترین یہ ہیں :