تفہیم القرآن جلد اول

۳۲۳-یہ آیت فتحِ مکّہ کے بعد نازل ہوئی اور مضمون کی مناسبت سے اِس سلسلہ ٴ کلام میں داخل کر دی گئی۔ اس سے پہلے اگرچہ سُود ایک ناپسندیدہ چیز سمجھا جاتا تھا مگر قانوناً اسے بند نہیں کیا گیا تھا۔ اس آیت کے نزول کے بعد اسلامی حکومت کے دائرے میں سُودی کاروبار ایک فوجداری جُرم بن گیا۔ عرب کے جو قبیلے سُود کھاتے تھے،  اُن کو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے عُمّال کے ذریعے سے آگاہ فرما دیا کہ اگر اب وہ اس لین دین سے باز نہ آئے،  تو ان کے خلاف جنگ کی جائے گی۔ نَجران کے عیسائیوں کو جب اسلامی حکومت کے تحت اندرونی خود مختاری دی گئی، تو معاہدے میں یہ تصریح کر دی گئی کہ اگر تم سُودی کاروبار کرو گے،  تو معاہدہ فسخ ہو جائے گا اور ہمارے اور تمہارے درمیان حالتِ جنگ قائم ہو جائے گی۔ آیت کے آخری الفاظ کی بنا پر ابن عباس،  حسن بصری، ابن سیرین اور ربیع بن انس کی رائے یہ ہے کہ جو شخص دار الاسلام میں سُود کھائے اسے توبہ پر مجبور کیا جائے اور اگر باز نہ آئے،  تو اسے قتل کر دیا جائے۔ دُوسرے فقہا کی رائے میں ایسے شخص کو قید کر دینا کافی ہے۔ جب تک وہ سُود خوری چھوڑ دینے کا عہد نہ کرے،  اسے نہ چھوڑا جائے۔

۳۲۴-اسی آیت سے شریعت میں یہ حکم نکالا گیا ہے کہ جو شخص ادائے قرض سے عاجز ہو گیا ہو،  اسلامی عدالت اس کے قرض خواہوں کو مجبور کرے گی کہ اُسے مہلت دیں، اور بعض حالات میں وہ پورا قرض یا قرض کا ایک حصّہ معاف بھی کرانے کی مجاز ہو گی۔ حدیث میں آتا ہے کہ ایک شخص کے کاروبار میں گھاٹا آگیا اور اس پر قرضوں کا بار بہت چڑھ گیا۔ معاملہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آیا۔ آپ نے لوگوں سے اپیل کی کہ اپنے اس بھائی کی مدد کرو۔ چنانچہ بہت سے لوگوں نے اس کو مالی امداد دی۔ مگر قرضے پھر بھی صاف نہ ہو سکے۔ تب آپ نے اس کے قرض خواہوں سے فرمایا کہ جو کچھ حاضر ہے،  بس وہی لے کر اسے چھوڑ دو، اس سے زیادہ تمہیں نہیں دلوایا جا سکتا۔ فقہا نے تصریح کی ہے کہ ایک شخص کے رہنے کا مکان، کھانے کے برتن، پہنے ّ کے کپڑے اور وہ آلات جن سے وہ اپنی روزی کماتا ہو، کسی حالت میں قرق نہیں کیے جا سکتے۔