تفہیم القرآن جلد اول

اب ایک نظر صدقات کے معاشی اثرات و نتائج کو بھی دیکھ لیجیے۔ اگر سوسائیٹی کے خوشحال افراد کا طریقِ کار یہ ہو کہ وہ اپنی حیثیت کے مطابق پُوری فراخ دلی کے ساتھ اپنی اور اپنے اہل و عیال کی ضروریات خریدیں، پھر جو روپیہ ان کے پاس ان کی ضروریات سے زیادہ بچے اسے غریبوں میں بانٹ دیں تاکہ وہ بھی اپنی ضروریات خرید سکیں، پھر اس پر بھی جو روپیہ بچ جائے اسے یا تو کاروباری لوگوں کو بلا سُود قرض دیں، یا شرکت کے اُصُول پر ان کے ساتھ نفع و نقصان میں حصّہ دار بن جائیں، یا حکومت کے پاس جمع کر دیں کہ وہ اجتماعی خدمات کے لیے ان کو استعمال کرے،  تو ہر شخص تھوڑے سے غور و فکر ہی سے اندازہ کر سکتا ہے کہ ایسی سوسائیٹی میں تجارت اور صنعت اور زراعت، ہر چیز کو بے انتہا فروغ حاصل ہو گا۔ اُس کے عام افراد کی خوشحالی کا معیار بلند ہوتا چلا جائے گا اور اس میں بحیثیت ِ مجموعی دولت کی پیداوار اُس سوسائیٹی کی بہ نسبت بدرجہا زیادہ ہو گی جس کے اندر سُود کا رواج ہو۔

۳۲۱-ظاہر ہے کہ سُود پر روپیہ وُہی شخص چلا سکتا ہے جس کو دولت کی تقسیم میں اس کی حقیقی ضرورت سے زیادہ حصّہ ملا ہو۔ یہ ضرورت سے زیادہ حصّہ،  جو ایک شخص کو ملتا ہے،  قرآن کے نقطۂ  نظر سے دراصل اللہ کا فضل ہے۔ اور اللہ کے فضل کا صحیح شکر یہ ہے کہ جس طرح اللہ نے اپنے بندے پر فضل فرمایا ہے،  اسی طرح بندہ بھی اللہ کے دُوسرے بندوں پر فضل کرے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتا، بلکہ اس کے برعکس اللہ کے فضل کو اس غرض کے لیے استعمال کرتا ہے کہ جو بندے دولت کی تقسیم میں اپنی ضرورت سے کم حصّہ پا رہے ہیں، ان کے قلیل حصّے میں سے بھی وہ اپنی دولت کے زور پر ایک جز اپنی طرف کھینچ لے،  تو حقیقت میں وہ ناشکرا بھی ہے اور ظالم، جفا کار اور بد عمل بھی۔

۳۲۲-اس رکوع میں اللہ تعالیٰ بار بار دو قسم کے کرداروں کو بالمقابل پیش کر رہا ہے۔ ایک کردار خود غرض، زر پرست، شائیلاک قسم کے انسان کا ہے،  جو خدا اور خلق دونوں کے حقوق سے بے پروا ہو کر روپیہ گننے اور گِن گِن کر سنبھالنے اور ہفتوں اور مہینوں کے حساب سے اس کو بڑھانے اور اس کی بڑھوتری کا حساب لگانے میں منہمک ہو۔ دُوسرا کردار ایک خدا پرست، فیّاض اور ہمدرد انسان کا کردار ہے،  جو خدا اور خلقِ خدا دونوں کے حقوق کا خیال رکھتا ہو، اپنی قوتِ بازو سے کما کر خود کھائے اور دُوسرے بندگانِ خدا کو کھلائے اور دل کھول کر نیک کاموں میں خرچ کرے۔ پہلی قسم کا کردار خدا کو سخت نا پسند ہے۔ دنیا میں اس کردار پر کوئی صالح سوسائیٹی نہیں بن سکتی،  اور آخرت میں ایسے کردار کے لیے غم و اندوہ اور کلفت و مصیبت کے سوا کچھ نہیں ہے۔ بخلاف اس کے اللہ کو دُوسری قسم کا کردار پسند ہے،  اسی سے دُنیا میں صالح سوسائیٹی بنتی ہے اور وہی آخرت میں انسان کے لیے موجبِ فلاح ہے۔