تفہیم القرآن جلد اول

۳۳۳ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے،  سب اللہ کاہے۔۳۳۴ تم اپنے دل کی باتیں خواہ ظاہر کرو یا چھُپاؤ اللہ بہرحال ان کا حساب تم سے لے لے گا۔ ۳۳۵ پھر اسے اختیار ہے جسے چاہے،  معاف کر دے اور جسے چاہے،  سزا دے۔ وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔۳۳۶ رسُول اُس ہدایت پر ایمان لایا ہے جو اس کے ربّ کی طرف سے اس پر نازل ہوئی ہے۔ اور جو لوگ اِس رسُول کے ماننے والے ہیں، انہوں نے بھی اس ہدایت کو دل سے تسلیم کر لیا ہے۔ یہ سب اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں کو مانتے ہیں اور ان کا قول یہ ہے کہ ‘‘ہم اللہ کے رسولوں کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کرتے،  ہم نے حکم سُنا اور اطاعت قبول کی۔ مالک!ہم تجھ سے خطا بخشی کے طالب ہیں اور ہمیں تیری ہی طرف پلٹنا ہے۔’’۳۳۷ اللہ کسی متنفّس پر اُس کی مقدرت سے بڑھ کر ذمّہ داری کا بوجھ نہیں ڈالتا۔۳۳۸ ہر شخص نے جو نیکی کمائی ہے،  اس کا پھل اسی کے لیے ہے اور جو بدی سمیٹی ہے،  اس کا وبال اسی پر ہے۔۳۳۹ (ایمان لانے والو! تم یوں دُعا کرو ) اے ہمارے ربّ ! ہم سے بھول چُوک میں جو قصور ہو جائیں،ان پر گرفت نہ کرنا۔ مالک ! ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال،  جو تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالے تھے۔۳۴۰ پروردگار! جس بار کو اُٹھانے کی ہم میں طاقت نہیں ہے،  وہ ہم پر نہ رکھ۔۳۴۱ ہمارے ساتھ نرمی کر، ہم سے درگزر فرما، ہم پر رحم کر، تُو ہمارا مولیٰ ہے،  کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد کر۔۳۴۲ ؏۴۰

۳۳۳-یہ خاتمۂ  کلام ہے۔ اس لیے جس طرح سورت کا آغاز دین کی بنیادی تعلیمات سے کیا گیا تھا، اسی طرح سورت کو ختم کرتے ہوئے بھی اُن تمام اُصُولی اُمور کو بیان کر دیا گیا ہے جن پر دینِ اسلام کی اساس قائم ہے۔ تقابل کے لیے اس سورہ کے پہلے رکوع کو سامنے رکھ لیا جائے تو زیادہ مفید ہو گا۔