۳۳۴-یہ دین کی اوّلین بنیاد ہے۔ اللہ تعالیٰ کا مالکِ زمین و آسمان ہونا اور اُن تمام چیزوں کا جو آسمان و زمین میں ہیں، اللہ ہی کی مِلک ہونا، در اصل یہی وہ بنیادی حقیقت ہے جس کی بنا پر انسان کے لیے کوئی دوسرا طرزِ عمل اس کے سوا جائز نہیں ہو سکتا کہ وہ اللہ کے آگے سرِ اطاعت جھکا دے۔
۳۳۵-اس فقرے میں مزید دو باتیں ارشاد ہوئیں۔ ایک یہ کہ ہر انسان فرداً فرداً اللہ کے سامنے ذمّہ دار اور جواب دہ ہے۔ دُوسرے یہ کہ جس پادشاہِ زمین و آسمان کے سامنے انسان جواب دہ ہے، وہ غیب و شہادت کا علم رکھنے والا ہے، حتیٰ کہ دلوں کے چھپے ہوئے ارادے اور خیالات تک اس سے پوشیدہ نہیں ہیں۔
۳۳۶-یہ اللہ کے اختیارِ مطلق کا بیان ہے۔ اُس کو کسی قانون نے باندھ نہیں رکھا ہے کہ اُس کے مطابق عمل کرنے پر وہ مجبور ہو، بلکہ وہ مالکِ مختار ہے۔ سزا دینے اور معاف کرنے کے کلّی اختیارات اس کو حاصل ہیں۔
۳۳۷-اس آیت میں تفصیلات سے قطع نظر کر کے اسلام کے عقائد اور اسلامی طرزِ عمل کا خلاصہ بیان کر دیا گیا ہے اور وہ یہ ہے : اللہ کو، اس کے فرشتوں کو، اور اس کی کتابوں کو ماننا۔ اس کے تمام رسولوں کو تسلیم کرنا بغیر اس کے کہ ان کے درمیان فرق کیا جائے ( یعنی کسی کو مانا جائے اور کسی کو نہ مانا جائے )۔ اور اس امر کو تسلیم کرنا کہ آخر کار ہمیں اس کے حضور میں حاضر ہونا ہے۔ یہ پانچ امور اسلام کے بنیادی عقائد ہیں۔ اِن عقائد کو قبول کرنے کے بعد ایک مسلمان کے لیے صحیح طرزِ عمل یہ ہے کہ اللہ کی طرف سے جو حکم پہنچے، اُسے وہ بسر و چشم قبول کرے، اس کی اطاعت کرے، اور اپنے حسنِ عمل پر غرّہ نہ کرے، بلکہ اللہ سے عفو و درگزر کی درخواست کرتا رہے۔
۳۳۸-یعنی اللہ کے ہاں انسان کی ذمہ داری اس کی مقدرت کے لحاظ سے ہے۔ ایسا ہر گز نہ ہو گا کہ بندہ ایک کام کرنے کی قدرت نہ رکھتا ہو اور اللہ اس سے باز پرس کرے کہ تُو نے فلاں کام کیوں نہ کیا۔ یا ایک چیز سے بچنا فی الحقیقت اس کی مقدرت سے باہر ہو اور اللہ اس سے مواخذہ کرے کہ تُو نے اس سے پرہیز کیوں نہ کیا۔ لیکن یہ یاد رہے کہ اپنی مقدرت کا فیصلہ کرنے والا انسان خود نہیں ہے۔ اس کا فیصلہ اللہ ہی کر سکتا ہے کہ ایک شخص فی الحقیقت کس چیز کی قدرت رکھتا تھا اور کس چیز کی نہ رکھتا تھا۔
