تفہیم القرآن جلد اول

۳۔ آل عمران

نام

اس صورت میں ایک مقام پر “آلِ عمران” کا ذکر آیا ہے۔ اسی کو علامت کے طور پر اس کا نام قرار دیا گیا۔

زمانۂ نزول اور اجزائے مضمون

اس میں چار تقریریں شامل ہیں :

 پہلی تقریر آغاز سورت سے چوتھے رکوع کی ابتدائی دو آیات تک ہے اور وہ غالباً جنگ بدر کے بعد قریبی زمانے میں ہی نازل ہوئی ہے۔

 دوسری تقریر آیت إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى آدَمَ وَنُوحًا وَآلَ إِبْرَاهِيمَ وَآلَ عِمْرَانَ عَلَى الْعَالَمِينَ (33) “ترجمہ:اللہ نے آدم اور نوح اور آل ابراہیم اور آل عمران کو تمام دنیا والوں پو ترجیح دے کر اپنی رسالت کے کام کے لئے منتخب کیا تھا” سے شروع ہوتی ہے اور چھٹے رکوع کے اختتام پر ختم ہوتی ہے۔ یہ ۹ ھ میں وفدِ نجران کی آمد کے موقع پر نازل ہوئی۔

 تیسری تقریر ساتویں رکوع کے آغاز سے لے کر بارہویں رکوع کے اختتام تک چلتی ہے اور اس کا زمانہ پہلی تقریر سے متصل ہی معلوم ہوتا ہے۔

 چوتھی تقریر تیرہویں رکوع سے ختمِ سورت تک جنگ احد کے بعد نازل ہوئی ہے۔