خطاب اور مباحث
ان مختلف تقریروں کو ملا کر جو چیز ایک مسلسل مضمون بناتی ہے، وہ مقصد و مدعا اور مرکزی مضمون کی یکسانیت ہے۔ سورت کا خطاب خصوصیت کے ساتھ دو گروہوں کی طرف ہے : ایک اہل کتاب (یہود و نصاریٰ)۔ دوسرے وہ لوگ جو محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر ایمان لائے تھے۔
پہلے گروہ کو اسی طرز پر مزید تبلیغ کی گئی ہے جس کا سلسلہ سورۂ بقرہ میں شروع کیا گیا تھا۔ ان کی اعتقادی گمراہیوں اور اخلاقی خرابیوں پر تنبیہ کرتے ہوئے انہیں بتایا گیا ہے کہ یہ رسول اور یہ قرآن اسی دین کی طرف بلا رہا ہے جس کی دعوت شروع سے تمام انبیا دیتے چلے آئے ہیں اور جو فطرت اللہ کے مطابق ایک ہی دین حق ہے۔ اس دین کے سیدھے رستے سے ہٹ کر جو راہیں تم نے اختیار کی ہیں وہ خود ان کتب کی رو سے بھی صحیح نہیں ہیں جن کو تم کتبِ آسمانی تسلیم کرتے ہو۔ لہٰذا اس صداقت کو قبول کرو جس کے صداقت ہونے سے تم خود بھی انکار نہیں کر سکتے۔
دوسرے گروہ کو، جو اب بہترین امت ہونے کی حیثیت سے حق کا علمبردار اور دنیا کی اصلاح کا ذمہ دار بنایا جا چکا ہے، اسی سلسلے میں مزید ہدایات دی گئی ہیں، جو سورۂ بقرہ میں شروع ہوا تھا۔ انہیں پچھلی امتوں کے مذہبی و اخلاقی زوال کا عبرتناک نقشہ دکھا کر متنبہ کیا گیا ہے کہ ان کے نقشِ قدم پر چلنے سے بچیں۔ انہیں بتایا گیا ہے کہ ایک مصلح جماعت ہونے کی حیثیت سے وہ کس طرح کام کریں اور ان اہلِ کتاب اور منافق مسلمانوں کے ساتھ کیا معاملہ کریں، جو خدا کے راستے میں طرح طرح سے رکاوٹیں ڈال رہے تھے۔ انہیں اپنی اُن کمزوریوں کی اصلاح پر بھی متوجہ کیا گیا ہے جن کا ظہور جنگ احد کے سلسلے میں ہوا تھا۔
اس طرح یہ سورت نہ صرف آپ اپنے مختلف اجزا میں مسلسل و مربوط ہے، بلکہ سورۂ بقرہ کے ساتھ بھی اس کا ایسا قریبی تعلق نظر آتا ہے کہ یہ بالکل اس کا تتمہ معلوم ہوتی ہے اور یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس کا فطری مقام بقرہ سے متصل ہی ہے۔
