۳:۔ بدر کی شکست کے بعد قریش کے دلوں میں آپ ہی انتقام کی آگ بھڑک رہی تھی کہ اس پر مزید تیل یہودیوں نے چھڑکا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ایک ہی سال میں مکے سے تین ہزار کا لشکرِ جرار مدینے پر حملہ آور ہو گیا اور احد کے دامن میں وہ لڑائی پیش آئی جو جنگ احد کے نام سے مشہور ہے۔ اس جنگ کے لیے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ ایک ہزار آدمی مدینے سے نکلے تھے مگر راستے میں تین سو منافقین یکایک الگ ہو کر مدینے کی طرف پلٹ گئے اور جو سات سو آدمی آپ کے ساتھ رہ گئے تھے ان میں بھی منافقین کی ایک چھوٹی سے جماعت شامل رہی، جس نے دوران جنگ مسلمانوں کے درمیان فتنہ برپا کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ یہ پہلا موقع تھا کہ جب معلوم ہوا کہ مسلمانوں کے اپنے گھر میں اتنے کثیر التعداد مارِ آستین موجود ہیں اور وہ اس طرح باہر کے دشمنوں کے ساتھ مل کر خود اپنے بھائی بندوں کو نقصان پہنچانے پر تلے ہوئے ہیں۔
۴:۔ جنگ احد میں مسلمانوں کو جو شکست ہوئی، اس میں اگرچہ منافقین کی تدبیروں کا ایک بڑا حصہ تھا، لیکن اس کے ساتھ مسلمانوں کی اپنی کمزوریوں کا حصہ بھی کچھ کم نہ تھا اور یہ ایک قدرتی بات تھی کہ ایک خاص طرز فکر اور نظام اخلاق پر جو جماعت ابھی تازہ تازہ ہی بنی تھی، جس کی اخلاقی تربیت ابھی مکمل نہ ہو سکی تھی، اور جسے اپنے عقیدہ و مسلک کی حمایت میں لڑنے کا یہ دوسرا ہی موقع پیش آیا تھا، اس کے کام میں بعض کمزوریوں کا ظہور بھی ہوتا۔ اس لیے یہ ضرورت پیش آئی کہ جنگ کے بعد اس جنگ کی پوری سرگزشت پر ایک مفصل تبصرہ کیا جائے اور اس میں اسلامی نقطۂ نظر سے جو کمزوریاں مسلمانوں کے اندر پائی گئی تھیں، ان میں سے ایک ایک کی نشاندہی کر کے اس کی اصلاح کے متعلق ہدایات دی جائیں۔ اس سلسلے میں یہ بات نظر میں رکھنے کے لائق ہے کہ اس جنگ پر قرآن کا تبصرہ ان تبصروں سے کتنا مختلف ہے جو دنیوی جرنیل اپنی لڑائیوں کے بعد کیا کرتے ہیں۔
