شان نزول
سورت کا تاریخی پس منظر یہ ہے :
۱:۔ سورۂ بقرہ میں اِس دین حق پر ایمان لانے والوں کو جن آزمائش اور مصائب سے مشکلات سے قبل از وقت متنبہ کر دیا گیا تھا، وہ پوری شدت کے ساتھ پیش آ چکی تھیں۔ جنگ بدر میں اگرچہ اہل ایمان کو فتح حاصل ہوئی تھی، لیکن یہ جنگ گویا بھڑوں کے چھتے میں پتھر مارنے کے ہم معنی تھی۔ اس اولین مسلح مقابلے نے عرب کی ان سب طاقتوں کو چونکا دیا تھا جو اس نئی تحریک سے عداوت رکھتی تھیں۔ ہر طرف طوفان کے آثار نمایاں ہو رہے تھے، مسلمانوں پر ایک دائمی خوف اور بے اطمینانی کی حالت طاری تھی اور ایسا محسوس ہوتا تھا کہ مدینے کی یہ چھوٹی سی بستی، جس نے گرد و پیش کی دنیا سے لڑائی مول لے لی ہے، صفحۂ ہستی سے مٹا ڈالی جائے گی۔ ان حالات کا مدینے کی معاشی حالت پر بھی نہایت برا اثر پڑ رہا تھا۔ اول تو ایک چھوٹے سے قصے میں جس کی آبادی چند سو گھروں سے زیادہ نہ تھی، یکایک مہاجرین کی ایک بڑی تعداد کے آ جانے ہی سے معاشی توازن بگڑ چکا تھا۔ اس پر مزید مصیبت اس حالت جنگ کی وجہ سے نازل ہو گئی۔
۲:۔ ہجرت کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اطراف مدینہ کے یہودی قبائل کے ساتھ جو معاہدے کیے تھے، ان لوگوں نے ان معاہدات کا ذرہ برابر پاس نہ کیا۔ جنگ بدر کے موقع پر ان اہل کتاب کی ہمدردیاں توحید و نبوت اور کتاب و آخرت کے ماننے والے مسلمانوں کے بجائے بت پوجنے والے مشرکین کے ساتھ تھیں۔ بدر کے بعد یہ لوگ کھلم کھلا قریش اور دوسرے قبائلِ عرب کو مسلمانوں کے خلاف جوش دلا دلا کر بدلہ لینے پر اکسانے لگے۔ خصوصاً بنو نضیر کے سردار کعب بن اشرف نے تو اس سلسلے میں اپنی مخالفانہ کوششوں کو اندھی عداوت، بلکہ کمینے پن کی حد تک پہنچا دیا۔ اہل مدینہ کے ساتھ ان یہودیوں کے ہمسائیگی اور دوستی کے جو تعلقات صدیوں سے چلے آ رہے تھے، ان کا پاس و لحاظ بھی انہوں نے اٹھا دیا۔ آخر کار جب ان کی شرارتیں اور عہد شکنیاں حد برداشت سے گزر گئیں تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے بدر کے چند ماہ بعد بنو قینقاع پر، جو ان یہودی قبیلوں میں سب سے زیادہ شریر لوگ تھے، حملہ کر دیا اور انہیں اطراف مدینہ سے نکال باہر کیا۔ لیکن اس سے دوسرے یہودی قبائل کی آتشِ عناد اور زیادہ بھڑک اٹھی۔ انہوں نے مدینے کے منافق مسلمانوں اور حجاز کے مشرک قبائل کے ساتھ ساز باز کر کے اسلام اور مسلمانوں کے لیے ہر طرف خطرات ہی خطرات پیدا کر دیئے، حتیٰ کہ خود نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی جان کے متعلق ہر وقت اندیشہ رہنے لگا کہ نہ معلوم کب آپ پر قاتلانہ حملہ ہو جائے۔ صحابۂ کرام اس زمانے میں بالعموم ہتھیار بند سوتے تھے۔ شب خون کے ڈر سے راتوں کو پہرے دیے جاتے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اگر تھوڑی دیر کے لیے بھی کہیں نگاہوں سے اوجھل ہو جاتے تو صحابۂ کرام آپ کو ڈھونڈنے کے لیے نکل کھڑے ہوتے تھے۔
