تفہیم القرآن جلد اول

تیسرے یہ کہ اللہ کی غالب طاقت سے غافل ہو کر جو لوگ اپنے سر و سامان اور اپنے حامیوں کی کثرت پر پھُولے ہوئے تھے،  ان کے لیے یہ واقعہ ایک تازیانہ تھا کہ اللہ کس طرح چند مُفلس و قَلّانچ غریب الوطن مہاجروں اور مدینے کے کاشتکاروں کی ایک مُٹھی بھر جماعت کے ذریعے سے قریش جیسے قبیلے کو شکست دلوا سکتا ہے،  جو تمام عرب کا سرتاج تھا۔

۱۱-تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سُورۂ بقرہ حاشیہ نمبر ۲۷۔

۱۲-یعنی اللہ غلط بخش نہیں ہے اور نہ سرسری اور سطحی طور پر فیصلہ کرنے والا ہے۔ وہ بندوں کے اعمال و افعال اور ان کی نیتوں اور ارادوں کو خوب جانتا ہے۔ اسے اچھی طرح معلوم ہے کہ بندوں میں سے کون اُس کے انعام کا مستحق ہے اور کون نہیں ہے۔

۱۳-یعنی راہِ حق پر پُوری استقامت دکھانے والے ہیں۔ کسی نقصان یا مصیبت سے ہمت نہیں ہارتے،  کسی ناکامی سے دل شکستہ نہیں ہوتے،  کسی لالچ سے پھِسل نہیں جاتے اور ایسی حالت میں بھی حق کا دامن مضبوطی کے ساتھ تھامے رہتے ہیں،  جبکہ بظاہر اُس کی کامیابی کا کوئی امکان نظر نہ آتا ہو۔ (ملاحظہ ہو سُورۂ بقرہ،  حاشیہ نمبر ۶۰)۔

۱۴-یعنی اللہ جو کائنات کی تمام حقیقتوں کا براہِ راست علم رکھتا ہے،  جو تمام موجودات کو بے حجاب دیکھ رہا ہے،  جس کی نگاہ سے زمین و آسمان کی کوئی چیز پوشیدہ نہیں،  یہ اُس کی شہادت ہے۔۔۔۔ اور اس سے بڑھ کر معتبر عینی شہادت اور کس کی ہو گی۔۔۔۔ کہ پورے عالمِ وجود میں اس کی اپنی ذات کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں ہے،  جو خدائی کی صفات سے متصف ہو، خدائی کے اقتدار کی مالک ہو، اور خدائی کے حقوق کی مستحق ہو۔