۱۵-اللہ کے بعد سب سے زیادہ معتبر شہادت فرشتوں کی ہے، کیونکہ وہ سلطنتِ کائنات کے انتظامی اہلِ کار ہیں اور وہ براہِ راست اپنے ذاتی عِلم کی بنا پر شہادت دے رہے ہیں کہ اس سلطنت میں اللہ کے سوا کسی کا حکم نہیں چلتا اور اس کے سوا کوئی ہستی ایسی نہیں ہے، جس کی طرف زمین و آسمان کے انتظامی معاملات میں وہ رُجوع کرتے ہوں۔ اس کے بعد مخلوقات میں سے جن لوگوں کو بھی حقائق کا تھوڑا یا بہت علم حاصل ہوا ہے، ان سب کی ابتدائے آفرینش سے آج تک یہ متفقہ شہادت رہی ہے کہ ایک ہی خدا اس پوری کائنات کا مالک و مُدبّر ہے۔
۱۶-یعنی اللہ کے نزدیک انسان کے لیے صرف ایک ہی نظامِ زندگی اور ایک ہی طریقۂ حیات صحیح و درست ہے، اور وہ یہ ہے کہ انسان اللہ کو اپنا مالک و معبُود تسلیم کرے اور اس کی بندگی و غلامی میں اپنے آپ کو بالکل سپر د کر دے اور اس کی بندگی بجا لانے کا طریقہ خود نہ ایجاد کرے، بلکہ اُس نے اپنے پیغمبروں کے ذریعہ سے جو ہدایت بھیجی ہے، ہر کمی و بیشی کے بغیر صرف اسی کی پیروی کرے۔ اسی طرزِ فکر و عمل کا نام ’’اسلام‘‘ ہے اور یہ بات سراسر بجا ہے کہ کائنات کا خالق و مالک اپنی مخلوق اور رعیت کے لیے اِس اسلام کے سوا کسی دُوسرے طرزِ عمل کو جائز تسلیم نہ کرے۔ آدمی اپنی حماقت سے اپنے آپ کو دہریت سے لے کر شرک و بُت پرستی تک ہر نظریے اور ہر مسلک کی پیروی کا جائز حق دار سمجھ سکتا ہے، مگر فرماں روائے کائنات کی نگاہ میں تو یہ نِری بغاوت ہے۔
۱۷-مطلب یہ ہے کہ اللہ کی طرف سے جو پیغمبر بھی دُنیا کے کسی گوشے اور کسی زمانہ میں آیا ہے، اس کا دین اسلام ہی تھا اور جو کتاب بھی دُنیا کی کسی زبان اور کسی قوم میں نازل ہوئی ہے، اس نے اسلام ہی کی تعلیم دی ہے۔ اس اصل دین کو مسخ کر کے اور اس میں کمی بیشی کر کے جو بہت سے مذاہب نوعِ انسانی میں رائج کیے گئے، ان کی پیدائش کا سبب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ لوگوں نے اپنی جائز حد سے بڑھ کر حقوق، فائدے اور امتیازات حاصِل کرنے چاہے اور اپنی خواہشات کے مطابق اصل دین کے عقائد، اُصُول اور احکام میں ردّ و بدل کر ڈالا۔
۱۸-دُوسرے الفاظ میں اس بات کو یوں سمجھئے کہ ’’میں اور میرے پیرو تو اس ٹھیٹھ اسلام کے قائل ہو چکے ہیں جو خدا کا اصل دین ہے۔ اب تم بتا ؤ کہ کیا تم اپنے اور اپنے اسلاف کے بڑھائے ہوئے حاشیوں کو چھوڑ کر اس اصلی و حقیقی دین کی طرف آتے ہو‘‘۔
