تفہیم القرآن جلد اول

۲۴-اِس سے پہلے مکّے میں کئی بار یہ چیلنج دیا جا چکا تھا کہ اگر تم اِس قرآن کو انسان کی تصنیف سمجھتے ہو، تو اس کے مانند کوئی کلام تصنیف کر کے دکھا ؤ۔ اب مدینے پہنچ کر پھر اس کا اِعادہ کیا جا رہا ہے۔ (ملاحظہ ہو سُورۂ یونس، آیت ۴۸ و سُورۂ ہُود،  آیت ۱۳۔ بنی اسرائیل،  آیت ۸۸۔ الطور، آیت ۲۳۔۳۴)

۲۵-اِس میں یہ لطیف اشارہ ہے کہ وہاں صرف تم ہی دوزخ کا ایندھن نہ بنو گے،  بلکہ تمہارے وہ بُت بھی وہاں تمہارے ساتھ ہی موجود ہوں گے جنہیں تم نے اپنا معبُود و مسجُود بنا رکھا ہے۔ اس وقت تمہیں خود ہی معلوم ہو جائے گا کہ خدائی میں یہ کتنا دخل رکھتے تھے۔

۲۶-یعنی نِرالے اور اجنبی پَھل نہ ہوں گے،  جِن سے وہ نا مانوس ہوں۔ شکل میں اُنہی پَھلوں سے ملتے جُلتے ہوں گے جن سے وہ دُنیا میں آشنا تھے۔ البتہ لذّت میں وہ ان سے بدرجہا زیادہ بڑھے ہوئے ہوں گے۔ دیکھنے میں مثلاً آم اور انار اور سنترے ہی ہوں گے۔ اہل جنّت ہر پھل کو دیکھ کر پہچان لیں گے کہ یہ آم ہے اور یہ انار ہے اور یہ سنترا۔ مگر مزے میں دُنیا کے آموں اور اناروں اور سنتروں کو ان سے کوئی نسبت نہ ہو گی۔

۲۷-عربی متن میں ازدواج کا لفظ استعمال ہوا ہے،  جس کے معنی ہیں ’’جوڑے ‘‘۔ اور یہ لفظ شوہر اور بیوی دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ شوہر کے لیے بیوی ’’زوج ‘‘ ہے اور بیوی کے شوہر ’’زوج‘‘۔ مگر وہاں یہ ازدواج پاکیزگی کی صفت کے ساتھ ہوں گے۔ اگر دُنیا میں کوئی مرد نیک ہے اور اس کی بیوی نیک نہیں ہے،  تو آخرت میں ان کا رشتہ کٹ جائے گا اور اس نیک مرد کو کوئی دُوسری نیک بیوی دے دی جائے گی۔ اگر یہاں کوئی عورت نیک ہے اور اس کا شوہر بد، تو وہاں وہ اِس بُرے شوہر کی صحبت سے خلاصی پا جائے گی اور کوئی نیک مرد اس کا شریکِ زندگی بنا دیا جائے گا۔ اور اگر یہاں کوئی شوہر اور بیوی دونوں نیک ہیں، تو وہاں ان کا یہی رشتہ ابدی و سرمدی ہو جائے گا۔

۲۸-یہاں ایک اعتراض کا ذکر کیے بغیر اس کا جواب دیا گیا ہے۔ قرآن میں متعدّد مقامات پر توضیح مدّعا کے لیے مکڑی،  مکھّی، مچھّر وغیرہ کی جو تمثیلیں دی گئی ہیں،  اُن پر مخالفین کو اعتراض تھا کہ یہ کیسا کلامِ الٰہی ہے،  جس میں ایسی حقیر چیزوں کی تمثیلیں ہیں۔ وہ کہتے تھے کہ اگر یہ خدا کا کلام ہوتا تو اس میں یہ فضولیات نہ ہوتیں۔

۲۹-یعنی جو لوگ بات کو سمجھنا نہیں چاہتے،  حقیقت کی جستجو ہی نہیں رکھتے،  اُن کی نگاہیں تو بس ظاہری الفاظ میں اٹک کر رہ جاتی ہیں اور وہ ان چیزوں سے اُلٹے نتائج نکال کر حق سے اَور زیادہ دُور چلے جاتے ہیں۔ بر عکس اس کے جو خود حقیقت کے طالب ہیں اور صحیح بصیرت رکھتے ہیں، ان کو اُنہی باتوں میں حکمت کے جوہر نظر آتے ہیں اور ان کا دل گواہی دیتا ہے کہ ایسی حکیمانہ باتیں اللہ ہی کی طرف سے ہو سکتی ہیں۔