تفہیم القرآن جلد اول

لوگو،۲۱ بندگی اختیار کرو اپنے اُس ربّ کی جو تمھارا اور تم سے پہلے لوگ ہو گزرے ہیں اُن سب کا خالِق ہے،  تمھارے بچنے کی توقع اِسی ۲۲ صورت سے ہو سکتی ہے۔ وُہی تو ہے جس نے تمھارے لیے زمین کا فرش بچھایا، آسمان کی چھت بنائی، اُوپر سے پانی برسایا اور اس کے ذریعے سے ہر طرح کی پیداوار نکال کر تمھارے لیے رزق بہم پہنچایا۔پس تم جانتے ہو تو دُوسروں کو اللہ کا مدِّ مقابِل نہ ٹھہراؤ۔ ۲۳ اور اگر تمھیں اس امر میں شک ہے کہ یہ کتاب جو ہم نے اپنے بندے پر اتاری ہے، یہ ہماری ہے یا نہیں،تو اس کے مانند ایک ہی سورت بنا لاؤ،اپنے سارے ہم نواؤں کو بُلا لو، ایک اللہ کو چھوڑ کر باقی جس جس کی چاہو، مدد لے لو،اگر تم سچے ہو تو یہ کام کر کے دکھاؤ۔ ۲۴ لیکن اگر تم نے ایسا نہ کیا، اور یقیناً کبھی نہیں کر سکتے، تو ڈرو اس آگ سے جس کا ایندھن بنیں گے انسان اور پتھر ۲۵، جو مہیّا کی گئی ہے منکرینِ حق کے لیے۔ اور اے پیغمبر،جو لوگ اس کتاب پر ایمان لے آئیں اور (اس کے مطابق) اپنے عمل درست کر لیں،انہیں خوشخبری دے دو کہ اُن کے لیے ایسے باغ ہیں،جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ان باغوں کے پھل صورت میں دُنیا کے پھلوں سے مِلتے جُلتے ہوں گے۔ جب کوئی پھل انہیں کھانے کو دیا جائے گا، تو وہ کہیں گے کہ ایسے ہی پھل اس سے پہلے دُنیا میں ہم کو دیے جاتے تھے۔ان ۲۶ کے لیے وہاں پاکیزہ بیویاں ہوں گی،اور ۲۷ وہ وہاں ہمیشہ رہیں گے۔ ہاں،  اللہ اس سے ہر گز نہیں شرماتا کہ مچھّر یا اس سے بھی حقیر تر کسی چیز کی تمثیلیں دے۔۲۸ جو لوگ حق بات کو قبول کرنے والے ہیں،وہ انہی تمثیلوں کو دیکھ کر جان لیتے ہیں کہ یہ حق ہے جو ان کے ربّ ہی کی طرف سے آیا ہے، اور جو ماننے والے نہیں ہے،  وہ انہیں سُن کر کہنے لگتے ہیں کہ ایسی تمثیلوں سے اللہ کو کیا سروکار؟اس طرح اللہ ایک ہی بات سے بہتوں کو گمراہی میں مبتلا کر دیتا ہے اور بہتوں کو راہِ راست دکھا دیتا ہے۔۲۹ اور گمراہی میں وہ انہی کو مبتلا کر تا ہے،  جو فاسق ہیں ۳۰، اللہ کے عہد کو مضبوط باندھ لینے کے بعد توڑ دیتے ہیں،۳۱ اللہ نے جسے جوڑنے کا حکم دیا ہے اُسے کاٹتے ہیں،۳۲ اور زمین میں فساد بر پا کرتے ہیں۔۳۳ حقیقت میں یہ لوگ نقصان اُٹھانے والے ہیں۔ تم اللہ کے ساتھ کفر کا رویّہ کیسے اختیار کرتے ہو،حالانکہ تم بے جان تھے، اُس نے تم کو زندگی عطا کی،پھر وہی تمھاری جان سَلب کرے گا، پھر وہی تمہیں دوبارہ زندگی عطا کرے گا،پھر اسی کی طرف تمہیں پلٹ کر جانا ہے۔ وہی تو ہے جس نے تمھارے لیے زمین کی ساری چیزیں پیدا کیں،پھر اُوپر کی طرف توجّہ فرمائی اور سات آسمان ۳۴ استوار کیے۔اور وہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ ۳۵ ؏۳

۲۱-اگرچہ قرآن کی دعوت تمام انسانوں کے لیے عام ہے،  مگر اس دعوت سے فائدہ اُٹھانا یا نہ اُٹھانا لوگوں کی اپنی آمادگی پر اور اس آمادگی کے مطابق اللہ کی توفیق پر منحصر ہے۔ لہٰذا پہلے انسانوں کے درمیان فرق کر کے واضح کر دیا گیا کہ کس قسم کے لوگ اس کتاب کی رہنمائی سے فائدہ اُٹھا سکتے ہیں اور کس قسم کے نہیں اُٹھا سکتے۔ اِس کے بعد اب تمام نوعِ انسانی کے سامنے وہ اصل بات پیش کی جاتی ہے،  جس کی طرف بُلانے کے لیے قرآن آیا ہے۔

۲۲-یعنی دُنیا میں غلط بینی و غلط کاری سے اور آخرت میں خدا کے عذاب سے بچنے کی توقع۔

۲۳-یعنی جب تم خود بھی اِس بات کے قائل ہو اور تمہیں معلوم ہے کہ یہ سارے کام اللہ ہی کے ہیں، تو پھر تمہاری بندگی اسی کے لیے خاص ہونی چاہیے،  دُوسرا کون اس کا حق دار ہو سکتا ہے کہ تم اس کی بندگی بجا لاؤ ؟ دُوسروں کو اللہ کا مدِّ مقابل ٹھہرانے سے مُراد یہ ہے کہ بندگی و عبادت کی مختلف اقسام میں سے کسی قسم کا رویّہ خدا کے سوا دُوسروں کے ساتھ برتا جائے۔ آگے چل کر خود قرآن ہی سے تفصیل کے ساتھ معلوم ہو جائے گا کہ عبادت کی وہ اقسام کون کون سی ہیں جنہیں صِرف اللہ کے لیے مخصوص ہونا چاہیے اور جن میں دُوسروں کی شریک ٹھہرانا وہ ’’ شرک‘‘ ہے،  جسے روکنے کے لیے قرآن آیا ہے۔