۳۱-مسیحیوں کی گمراہی کا تمام تر سبب یہ ہے کہ وہ مسیح کو بندہ اور رسول ماننے کے بجائے اللہ کا بیٹا اور الوہیّت میں اس کا شریک قرار دیتے ہیں۔ اگر ان کی یہ بنیادی غلطی رفع ہو جائے، تو اِسلام صحیح و خالص کی طرف ان کا پلٹنا بہت آسان ہو جائے۔ اسی لیے اس خطبے کی تمہید یُوں اُٹھائی گئی ہے کہ آدمؑ اور نُوحؑ اور آلِ ابراہیمؑ اور آلِ عمران کے سب پیغمبر انسان تھے، ایک کی نسل سے دُوسرا پیدا ہوتا چلا آیا، ان میں سے کوئی بھی خدا نہ تھا، ان کی خصُوصیت بس یہ تھی کہ خدا نے اپنے دین کی تبلیغ اور دُنیا کی اصلاح کے لیے ان کو منتخب فرمایا تھا۔
۳۲-اگر عمران کی عورت سے مراد ’’عمران کی بیوی‘‘ لی جائے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ یہ وہ عمران نہیں ہیں جن کا ذکر اُوپر ہوا ہے، بلکہ یہ حضرت مریم کے والد تھے، جن کا نام شاید عمران ہو گا۔ ( مسیحی روایات میں حضرت مریم کے والد کا نام یو آخیم Ioachim لکھا ہے ) اور اگر عمران کی عورت سے مراد آلِ عمران لی جائے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ حضرت مریم کی والدہ اس قبیلے سے تعلق رکھتی تھیں۔ لیکن ہمارے پاس کوئی ایسا ذریعۂ معلومات نہیں ہے جس سے ہم قطعی طور پر ان دونوں معنوں میں سے کسی ایک کو ترجیح دے سکیں، کیونکہ تاریخ میں اس کا کوئی ذکر نہیں ہے کہ حضرت مریم کے والد کون تھے اور ان کی والدہ کس قبیلے کی تھیں۔ البتہ اگر یہ روایت صحیح مانی جائے کہ حضرت یحییٰؑ کی والدہ اور حضرت مریم کی والدہ آپس میں رشتہ کی بہنیں تھیں تو پھر ’’عمران کی عورت‘‘ کے معنی قبیلۂ عمران کی عورت ہی درست ہوں گے، کیونکہ انجیل لوقا میں ہم کو یہ تصریح ملتی ہے کہ حضرت یحییٰ کی والدہ حضرت ہارونؑ کی اولاد سے تھیں (لوقا۵:١)۔
۳۳-یعنی تو اپنے بندوں کی دعائیں سنتا ہے اور ان کی نیتوں کے حال سے واقف ہے۔
۳۴-یعنی لڑکا اُن بہت سی فطری کمزوریوں اور تمدّنی پابندیوں سے آزاد ہوتا ہے، جو لڑکی کے ساتھ لگی ہوئی ہوتی ہیں، لہٰذا اگر لڑکا ہوتا تو وہ مقصد زیادہ اچھی طرح حاصل ہو سکتا تھا جس کے لیے میں اپنے بچے کو تیری راہ میں نذر کرنا چاہتی تھی۔
۳۵-اب اس وقت کا ذکر شروع ہوتا ہے جب حضرت مریم سِن رُشد کو پہنچ گئیں اور بیت المقدس کی عباد ت گاہ (ہیکل) میں داخل کر دی گئیں اور ذکرِ الٰہی میں شب و روز مشغول رہنے لگیں۔ حضرت زکریا جن کی تربیت میں وہ دی گئی تھیں، غالباً رشتے میں ان کے خالو تھے اور ہیکل کے مجاوروں میں سے تھے۔ یہ وہ زکریا نبی نہیں ہیں جن کے قتل کا ذکر بائیبل کے پُرانے عہد نامے میں آیا ہے۔
