۳۶-لفظ محراب سے لوگوں کا ذہن بالعموم اس محراب کی طرف چلا جاتا ہے جو ہماری مسجدوں میں امام کے کھڑے ہونے کے لیے بنائی جاتی ہے۔ لیکن یہاں سے محراب سے یہ چیز مراد نہیں ہے۔ صوامع اور کنیسوں میں اصل عبادت گاہ کی عمارت سے متصل سطحِ زمین سے کافی بلندی پر جو کمرے بنائے جاتے ہیں، جن میں عبادت گاہ کے مجاور، خدّام اور معتکف لوگ رہا کرتے ہیں، انہیں محراب کہا جاتا ہے۔ اسی قسم کے کمروں میں سے ایک میں حضرت مریم معتکف رہتی تھیں۔
۳۷-حضرت زکریّا اس وقت تک بے اولاد تھا۔ اس نوجوان صالحہ لڑکی کو دیکھ کر فطرةً ان کے دل میں یہ تمنّا پیدا ہوئی کہ کاش، اللہ انہیں بھی ایسی ہی نیک اولاد عطا کرے، اور یہ دیکھ کر کہ اللہ کس طرح اپنی قدرت سے اس گوشہ نشین لڑکی کو رزق پہنچا رہا ہے، انہیں یہ اُمید ہوئی کہ اللہ چاہے، تو اس بڑھاپے میں بھی ان کو اولاد دے سکتا ہے۔
۳۸-بائیبل میں ان کا نام ’’یوحنا بپتسمہ دینے والا‘‘(John the Baptist) لکھا ہے۔ ان کے حالات کے لیے ملاحظہ ہو متی باب ۳ و ١١ و ١۴۔مرقس باب ١ و ٦۔ لوقا باب ١ و ۳۔
۳۹-اللہ کے ’’فرمان‘‘ سے مراد حضرت عیسیٰؑ ہیں۔ چونکہ ان کی پیدائش اللہ تعالیٰ کے ایک غیر معمولی فرمان سے خَرقِ عادت کے طور پر ہوئی تھی اس لیے ان کو قرآن مجید میں ’’کَلِمَةٌ مِّنَ اللہ‘‘ کہا گیا ہے۔
۴۰-یعنی تیرے بڑھاپے اور تیری بیوی کے بانجھ پن کے باوجود اللہ تجھے بیٹا دے گا۔
۴۱- یعنی ایسی علامت بتا دے کہ جب ایک پیرِ فرتوت اور ایک بوڑھی بانجھ کے ہاں لڑکے کی ولادت جیسا عجیب غیر معمُولی واقعہ پیش آنے والا ہو تو اس کی اطلاع مجھے پہلے سے ہو جائے۔
۴۲-اس تقریر کا اصل مقصد عیسائیوں پر ان کے اِس عقیدے کی غلطی واضح کرنا ہے کہ وہ مسیح علیہ السّلام کو خدا کا بیٹا اور الٰہ سمجھتے ہیں۔ تمہید میں حضرت یحییٰ علیہ السّلام کا ذکر اس وجہ سے فرمایا گیا ہے کہ جس طرح مسیح علیہ السّلام کی ولادت معجزانہ طور پر ہوئی تھی اُسی طرح اُن سے چھ ہی مہینہ پہلے اُسی خاندان میں حضرت یحییٰ کی پیدائش بھی ایک دُوسری طرح کے معجزے سے ہو چکی تھی۔ اس سے اللہ تعالیٰ عیسائیوں کو یہ سمجھانا چاہتا ہے کہ اگر یحیی ٰؑ کو ان کی اعجازی ولادت نے الہٰ نہیں بنایا تو مسیحؑ محض اپنی غیر معمولی پیدائش کے بل پر الٰہ کیسے ہو سکتے ہیں۔
