تفہیم القرآن جلد اول

پھر وہ وقت آیا جب مریم سے فرشتوں نے آ کر کہا ’’اے مریم ! اللہ نے تجھے برگزیدہ کیا اور پاکیزگی عطا کی اور تمام دُنیا کی عورتوں پر تجھ کو ترجیح دے کر اپنی خدمت کے لیے چُن لیا۔ اے مریم ! اپنے رب کی تابع فرمان بن کر رہ، اس کے آگے سر بسجود ہو، اور جو بندے اس کے حضور جھکنے والے ہیں ان کے ساتھ تو بھی جھک جا‘‘۔ اے محمد ؐ ! یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تم کو وحی کے ذریعہ سے بتا رہے ہیں، ورنہ تم اُس وقت وہاں موجو د نہ تھے جب ہیکل کے خادم یہ فیصلہ کرنے کے لیے کہ مریم کا سر پرست کون ہو اپنے اپنے قلم پھینک رہے تھے، ۴۳ اور نہ تم اس وقت حاضر تھے جب اُن کے درمیان جھگڑا برپا تھا۔ اور جب فرشتوں نے کہا ’’اے مریم ! اللہ تجھے اپنے ایک فرمان کی خوش خبری دیتا ہے۔ اس کا نام مسیح عیسیٰ ابن مریم ہو گا، دنیا اور آخرت میں معزّز ہو گا،  اللہ کے مقرب بندوں میں شمار کیا جائے گا، لوگوں سے گہوارے میں بھی کلام کرے گا اور بڑی عمر کو پہنچ کر بھی،  اور وہ ایک مرد صالح ہو گا‘‘۔ یہ سُن کر مریم بولی ’’پروردگار!میرے ہا ں بچہ کہاں سے ہو گا، مجھے تو کسی شخص نے ہاتھ تک نہیں لگایا‘‘۔ جواب ملا ’’ایسا ہی ہو گا،۴۴ اللہ جو چاہتا ہے پیدا کر تا ہے۔ وہ جب کسی کا م کے کرنے کا فیصلہ فرماتا ہے تو بس کہتا ہے کہ ہو جا اور وہ ہو جا تا ہے ‘‘۔(فرشتوں نے پھر اپنے سلسلۂ کلام میں کہا) ’’اور اللہ اُسے کتاب اور حکمت کی تعلیم دے گا، تورات اور انجیل کا علم سکھائے گا اور بنی اسرائیل کی طرف اپنا رسول مقرر کرے گا‘‘۔ (اور جب وہ بحیثیت رسول بنی اسرائیل کے پاس آیا تو اس نے کہا) ’’میں تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس نشانی لے کر آیا ہوں۔ میں تمہارے سامنے مٹی سے پرندے کی صورت کا ایک مجسمہ بناتا ہوں اور اس میں پھونک مارتا ہوں، وہ اللہ کے حکم سے پرندہ بن جاتا ہے۔ میں اللہ کے حکم سے مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو اچھا کرتا ہوں اور مُردے کو زندہ کرتا ہوں۔ میں تمہیں بتاتا ہوں کہ تم کیا کھاتے ہو اور کیا اپنے گھروں میں ذخیرہ کر کے رکھتے ہو۔ اس میں تمہارے لیے کافی نشانی ہے اگر تم ایمان لانے والے ہو۔۴۵اور میں اُس تعلیم و ہدایت کی تصدیق کرنے والا بن کر آیا ہوں جو تو رات میں سے اِس وقت میرے زمانہ میں موجود ہے۔۴۶ اور اس لیے آیا ہوں کہ تمہارے لیے بعض اُن چیزوں کو حلال کر دوں جو تم پر حرام کر دی گئی ہیں۔۴۷ دیکھو،  میں تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس نشانی لے کر آیا ہوں،  لہٰذا اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔اللہ میرا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی،  لہٰذا تم اُسی کی بندگی اختیار کرو، یہی سیدھا راستہ ہے ‘‘۔۴۸جب عیسیٰؑ نے محسوس کیا کہ بنی اسرائیل کفر و انکار پر آمادہ ہیں تو اس نے کہا ’’کون اللہ کی راہ میں میرا مددگار ہو تا ہے ‘‘؟ حواریوں ۴۹ نے جواب دیا ’’ہم اللہ کے مدد گار ہیں، ۵۰ ہم اللہ پر ایمان لائے،  گواہ رہو کہ ہم مسلم(اللہ کے آگے سرِ اطاعت جھکا دینے والے ) ہیں۔ مالک! جو فرمان تُو نے نازل کیا ہے ہم نے اسے مان لیا اور رسول کی پیروی قبول کی، ہمارا نام گواہی دینے والوں میں لکھ لے ‘‘۔ پھر بنی  اسرائیل(مسیح کے خلاف) خفیہ تدبیریں کرنے لگے۔ جواب میں اللہ نے بھی اپنی خفیہ تدبیر کی اور ایسی تدبیروں میں اللہ سب سے بڑھ کر ہے۔ ؏۵