افسوس ہے کہ موجودہ اناجیل میں مسیح علیہ السّلام کے مِشن کو اس وضاحت کے ساتھ بیان نہیں کیا گیا جس طرح اُوپر قرآن میں پیش کیا گیا ہے۔ تاہم منتشر طور پر اشارات کی شکل میں وہ تینوں بُنیادی نکات ہمیں ان کے اندر ملتے ہیں جو اُوپر بیان ہوئے ہیں۔ مثلاً یہ بات کہ مسیح صرف اللہ کی بندگی کے قائل تھے ان کے اِس ارشاد سے صاف ظاہر ہوتی ہے :
’’ تُو خداوند اپنے خدا کو سجدہ کر اور صرف اسی کی عبادت کر‘‘(متی۴ : ١۰)
اور صرف یہی نہیں کہ وہ اس کے قائل تھے بلکہ ان کی ساری کوششوں کا مقصُود یہ تھا کہ زمین پر خدا کے امرِ شرعی کی اُسی طرح اطاعت ہو جس طرح آسمان پر اس کے امرِ تکوینی کی اطاعت ہو رہی ہے :
’’تیری بادشاہی آئے۔ تیری مرضی جیسی آسمان پر پوری ہوتی ہے زمین پر بھی ہو‘‘ (متی ٦ :١۰ )
پھر یہ بات کہ مسیح علیہ السّلام اپنے آپ کو نبی اور آسمانی بادشاہت کے نمائندے کی حیثیت سے پیش کرتے تھے، اور اسی حیثیت سے لوگوں کو اپنی اطاعت کی طرف دعوت دیتے تھے، ان کے متعدّد اقوال سے معلوم ہوتی ہے۔
انہوں نے جب اپنے وطن ناصرہ سے اپنی دعوت کا آغاز کیا تو ان کے اپنے ہی بھائی بند اور اہلِ شہر ان کی مخالفت کے لیے کھڑے ہو گئے۔ اس پر متی، مرقس اور لوقا تینوں کی متفقہ روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا’’ نبی اپنے وطن میں مقبول نہیں ہوتا‘‘۔ اور جب یروشلم میں ان کے قتل کی سازشیں ہونے لگیں اور لوگوں نے ان کو مشورہ دیا کہ آپ کہیں اور چلے جائیں تو انہوں نے جواب دیا ’’ ممکن نہیں کہ نبی یروشلم سے باہر ہلاک ہو‘‘(لوقا ١۳:۲۳ )۔
آخری مرتبہ جب وہ یروشلم میں داخل ہو رہے تھے تو ان کے شاگردوں نے بلند آواز سے کہنا شروع کیا ’’مبارک ہے وہ بادشاہ جو خداوند کے نام سے آتا ہے ‘‘۔ اس پر یہودی علما ناراض ہوئے اور انہوں نے حضرت مسیحؑ سے کہا کہ آپ اپنے شاگردوں کو چُپ کرائیں۔ اس پر آپ نے فرمایا ’’اگر یہ چُپ رہیں گے تو پتھر پکار اُٹھیں گے ‘‘(لوقا ١۹: ۳۸۔۴۰)ایک اور موقع پر آپ نے فرمایا:
