تفہیم القرآن جلد اول

’’اے محنت اُٹھانے والو اور بوجھ سے دبے ہوئے لوگو، سب میرے پاس آ ؤ،  میں تم کو آرام دونگا۔ میرا جو ا اپنے اُوپر اُٹھا لو۔۔۔۔ میرا جوا ملائم ہے اور میرا بوجھ ہلکا‘‘۔(متی ١١: ۲۸۔۳۰)

پھر یہ بات کہ مسیح علیہ السّلام انسانی ساخت کے قوانین کے بجائے خدائی قانون کی اطاعت کرانا چاہتے تھے متی اور مرقس کی اُس روایت سے صاف طور پر مترشح ہوتی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہودی علما نے اعتراض کیا کہ آپ کے شاگرد بزرگوں کی روایات کے خلاف ہاتھ دھوئے بغیر کھانا کیوں کھا لیتے ہیں؟ اس پر حضرت مسیحؑ  نے فرمایا تم ریاکاروں کی حالت وہی ہے جس پر یسعیاہ نبی کی زبان سے یہ طعنہ دیا گیا ہے کہ ’’یہ اُمّت زبان سے تو میری تعظیم کرتی ہے مگر ان کے دل مُجھ سے دُور ہیں، کیونکہ یہ انسانی احکام کی تعلیم دیتے ہیں‘‘۔ تم لوگ خدا کے حکم کو تو باطل کرتے ہو اور اپنے گھڑے ہوئے قوانین کو برقرار رکھتے ہو۔ خدا نے تورات میں حکم دیا تھا کہ ماں باپ کی عزّت کرو اور جو کوئی ماں باپ کو بُرا کہے وہ جان سے مارا جائے۔ مگر تم کہتے ہو کہ جو شخص اپنی ماں یا باپ سے یہ کہہ دے کہ میری جو خدمات تمہارے کام آ سکتی تھیں اُنہیں میں خدا کی نذر کر چکا ہوں، اس کے لیے بالکل جائز ہے کہ پھر ماں باپ کی کوئی خدمت نہ کرے۔ (متی۵:۳۔۹۔ مرقس۷: ۵۔١۳)

۴۹-’’حواری‘‘ کا لفظ قریب قریب وہی معنی رکھتا ہے جو ہمارے ہاں ’’انصار‘‘ کا مفہُوم ہے۔ بائیبل میں بالعموم حواریوں کے بجائے ’’شاگردوں‘‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اور بعض مقامات پر انہیں رسول بھی کہا گیا ہے۔ مگر رسول اِس معنی میں کہ مسیح علیہ السّلام ان کو تبلیغ کے لیے بھیجتے تھے،  نہ اِسم معنی میں کہ خدا نے ان کو رسُول مقرر کیا تھا۔

۵۰-دینِ اسلام کی اقامت میں حصّہ لینے کو قرآن مجید میں اکثر مقامات پر ’’اللہ کی مدد کرنے ‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہ ایک تشریح طلب مضمون ہے۔ زندگی کے جس دائرے میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو ارادہ و اختیار کی آزادی عطا کی ہے،  اس میں وہ انسان کو کفر یا ایمان،  بغاوت یا اطاعت میں سے کسی ایک راہ کے اختیار کرنے پر اپنی خدائی طاقت سے مجبُور نہیں کرتا۔ اس کے بجائے وہ دلیل اور نصیحت سے انسان کو اس بات کا قائل کرنا چاہتا ہے کہ انکار و نافرمانی اور بغاوت کی آزادی رکھنے کے باوجود اُس کے لیے حق یہی ہے اور اس کی فلاح و نجات کا راستہ بھی یہی ہے کہ اپنے خالق کی بندگی و اطاعت اختیار کرے۔ اس طرح فہمائش اور نصیحت سے بندوں کو راہِ راست پر لانے کی تدبیر کرنا، یہ دراصل اللہ کا کام ہے۔ اور جو بندے اس کام میں اللہ کا ساتھ دیں اُن کو اللہ اپنا رفیق و مددگار قرار دیتا ہے۔ اور یہ وہ بلند سے بلند مقام ہے جس پر کسی بندے کی پہنچ ہو سکتی ہے۔ نماز، روزہ اور تمام اقسام کی عبادات میں تو انسان محض بندہ و غلام ہوتا ہے۔ مگر تبلیغِ دین اور اقامتِ دین کی جدوجہد میں بندے کو خدا کی رفاقت و مددگاری کا شرف حاصل ہوتا ہے جو اس دنیا میں رُوحانی ارتقا کا سب سے او نچا مرتبہ ہے۔