یہاں یہ بات اور سمجھ لینی چاہیے کہ قرآن کی یہ پُوری تقریر دراصل عیسائیوں کے عقیدہ ٴ اُلوہیّتِ مسیح کی تردید و اصلاح کے لیے ہے۔ اور عیسائیوں میں اس عقیدہ کے پیدا ہونے کے اہم ترین اسباب تین تھے :
(١) حضرت مسیح کی اعجاز ی ولادت۔
(۲) ان کے صریح محسُوس ہونے والے معجزات۔
(۳) اُن کا آسمان کی طرف اُٹھایا جانا جس کا ذکر صاف الفاظ میں ان کی کتابوں میں پایا جاتا ہے۔
قرآن نے پہلی بات کی تصدیق کی اور فرمایا کہ مسیح کا بے باپ پیدا ہونا محض اللہ کی قدرت کا کرشمہ تھا۔ اللہ جس کو جس طرح چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ یہ غیر معمُولی طریقِ پیدائش ہرگز اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ مسیح خدا تھا یا خدائی میں کچھ بھی حصّہ رکھتا تھا۔
دُوسری بات کی بھی قرآن نے تصدیق کی اور خود مسیح کے معجزات ایک ایک کر کے گنائے، مگر بتا دیا کہ یہ سارے کام اُس نے اللہ کے اذن سے کیے تھے، باختیار خود کچھ بھی نہیں کیا، اس لیے ان میں سے بھی کوئی بات ایسی نہیں ہے جس سے تم یہ نتیجہ نکالنے میں کچھ بھی حق بجانب ہو کہ مسیح کا خدائی میں کوئی حصّہ تھا۔
اب تیسری بات کے متعلق اگر عیسائیوں کی روایت سرے سے بالکل ہی غلط ہوتی تب تو ان کے عقیدہ ٴ اُلوہیّتِ مسیح کی تردید کے لیے ضروری تھا کہ صاف صاف کہہ دیا جاتا کہ تم الٰہ اور ابن اللہ بنا رہے ہو وہ مر کر مٹی میں مل چکا ہے، مزید اطمینان چاہتے ہو تو فلاں مقام پر جا کر اس کی قبر دیکھ لو۔ لیکن ایسا کرنے کے بجائے قرآن صرف یہی نہیں کہ ان کی موت کی تصریح نہیں کرتا، اور صرف یہی نہیں کہ ایسے الفاظ استعمال کرتا ہے جو زندہ اُٹھائے جانے کے مفہوم کا کم از کم احتمال تو رکھتے ہی ہیں، بلکہ عیسائیوں کو اُلٹا یہ اور بتا دیتا ہے کہ مسیح سرے سے صلیب پر چڑھائے ہی نہیں گئے، یعنی وہ جس نے آخر وقت میں ’’ایلی ایلی لما شبقتانی‘‘ کہا تھا اور وہ جس کی صلیب پر چڑھی ہوئی حالت کی تصویر تم لیے پھرتے ہو وہ مسیح نہ تھا، مسیح کو تو اس سے پہلے ہی خدا نے اُٹھا لیا تھا۔
اس کے بعد جو لوگ قرآن کی آیات سے مسیح کی وفات کا مفہوم نکالنے کی کوشش کرتے ہیں وہ دراصل یہ ثابت کرتے ہیں کہ اللہ میاں کو صاف سلجھی ہوئی عبارت میں اپنا مطلب ظاہر کرنے تک کا سلیقہ نہیں ہے۔ اعاذ نا اللہ مِن ذٰلِک۔
