تفہیم القرآن جلد اول

۵۱-اصل میں لفظ ’’مُتَوَفِّیْکَ‘‘ استعمال ہوا ہے۔ تَوَفِّی کے اصل معنی لینے اور وُصُول کرنے کے ہیں ’’رُوح قبض کرنا‘‘ اس لفظ کا مجازی استعمال ہے نہ کہ اصل لغوی معنی۔ یہاں یہ لفظ انگریزی لفظ(To recall) کے معنی میں مستعمل ہوا ہے،  یعنی کسی عہدہ دار کو اس کے منصب سے واپس بُلانا۔ چونکہ بنی اسرائیل صدیوں سے مسلسل نافرمانیاں کر رہے تھے،  بار بار کی تنبیہوں اور فہمائشوں کے باوجود ان کی قومی روش بگڑتی ہی چلی جا رہی تھی، پے در پے کئی انبیا کو قتل کر چکے تھے اور ہر اس بندۂ صالح کے خون کے پیاسے ہو جاتے تھے جو نیکی اور راستی کی طرف انہیں دعوت دیتا تھا، جیسے دو جلیل القدر پیغمبروں کو بیک وقت مبعوث کیا جن کے ساتھ مامور مِنَ اللہ ہونے کی ایسی کھُلی کھُلی نشانیاں تھیں کہ ان سے انکار صرف وہی لوگ کر سکتے تھے جو حق و صداقت سے انتہا درجہ کا عناد رکھتے ہوں اور حق کے مقابلہ میں جن کی جسارت و بے باکی حد کو پہنچ چکی ہو۔ مگر بنی اسرائیل نے اس آخری موقع کو بھی ہاتھ سے کھو دیا اور صرف اتنا ہی نہ کیا کہ ان دونوں پیغمبروں کی دعوت رد کر دی، بلکہ ان کے ایک رئیس نے علی الاعلان حضرت یحییٰؑ  جیسے بلند پایہ انسان کا سر ایک رقّاصہ کی فرمائش پر قلم کرا دیا، اور ان کے علما و فقہا نے سازش کر کے حضرت عیسیٰؑ  کو رُومی سلطنت سے سزائے موت دلوانے کی کوشش کی۔ اس کے بعد بنی اسرائیل کی فہمائش پر مزید وقت صرف کرنا بالکل فضول تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو واپس بُلا لیا اور قیامت تک کے لیے بنی اسرائیل پر ذلت کی زندگی کا فیصلہ لکھ دیا۔